نہر سوئز، جہاز کی تحقیقات میں بھارتیوں کی گرفتاری کا امکان

نہر سوئز میں پھنسے بحری جہاز کے معاملے پر 25 بھارتیوں کی گرفتاری کا امکان ہے۔

نہر سوئز میں پھنسنے والے بحری جہاز کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور جہاز میں موجود بھارتی عملے کے 25 افراد کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔تحقیقات مکمل ہونے تک بھارتی مزدوروں کو نظر بند کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال تحقیقات ٹیم جہاز کے ڈیٹا ریکارڈ میں ہونے والے گفتگو کی جانچ کرنے میں مصروف ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے نہر سوئز میں مال بردار جہاز پھنس گیا تھا جس کی وجہ سے بحری راستہ بند ہو گیا اور کئی سمندر میں بحری جہازوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔

گزشتہ روز جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق نہر سوئز میں پھنسے ہوئے بحری جہاز کو نکالنے کی کوشش میں مصروف انجینئرز کو اس وقت آسمانی و سمندری مدد ملی جب چودھویں کے چاند کے باعث پانی میں مدو جزر پیدا ہوئے اور لہریں معمول سے زیادہ بلند ہوئیں۔

سائنسدانوں کے نزدیک جب چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمکتا ہے تو اس وقت وہ زمین سے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے جس کی وجہ سے سمندروں، دریاؤں اور نہروں میں کشش ثقل کی وجہ سے شدید مدو جزر پیدا ہوتے ہیں جو لہروں کو معمول سے زیادہ بلند کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

تقریباً ایک ہفتے تک نہر سوئز میں پھنسے رہنے والے مال بردار جہاز ایور گرین کو پیر کے روز نکال لیا گیا۔ اس جہاز کے نہر میں پھنس جانے سے عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو گیا تھا۔ نہر سوئز میں پھنسے 2 لاکھ ٹن وزنی بحری جہاز ایور گرین کو 6 روز کی محنت کے بعد سیدھا کیا گیا ہے۔

7 روز قبل ایور گرین نامی جہاز مصر کی سویز نہر سے گزرتے ہوئے توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نہر میں ہی پھنس گیا تھا۔ نہر سوئز 193 کلومیٹر طویل اور 205 میٹر چوڑی ہے جبکہ اس میں پھنسنے والا جہاز ایور گرین 400 میٹر لمبا اور 60 میٹر چوڑا تھا۔

جہاز کی مالک کمپنی ایور گرین مرین کارپس کے مطابق ایور گرین بحری جہاز چین سے نیدر لینڈز کے شہر روٹر ڈیم جا رہا تھا، نہر سوئز کو پار کرتے ہوئے ہوا کے تیز دباؤ کی وجہ سے اس کی سمت بدل گئی اور اس نے نہر کو بلاک کردیا تھا۔