مودی سرکار کا مقبوضہ کشمیر میں ایک اور غیر قانونی اقدام

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے ایک اور غیر قانونی اقدام اٹھا لیا۔مودی سرکار نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کے اضلاعات میں سرکاری عمارتوں پر آئندہ 15 دنوں میں بھارتی پرچم لہرانے کا حکم جاری کر دیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پرچم لہرانے کی ہدایات لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جاری کیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی 5 اگست کو خصوصی حیثیت منسوخ کرنے سے قبل اپنا آئین اور جھنڈا تھا۔یاد رہے کہ دو سال قبل 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کے ایون بالا ’راجیہ سبھا‘ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا۔

بل کی منظوری کے بعد کشمیر کو بھارتی آئین میں حامل خصوصی حیثیت کا 70 سال بعد خاتمے کا آغاز ہوا۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ پڑے تھے۔

بھارتی ایوان بالا نے ریاست جموں کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔ بل کے مطابق ریاست لداخ اور جموں اینڈ سرینگر پر مشتمل ہو گی۔ دونوں علاقے مرکزی حکومت کے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہوں گے۔

بھارت کے آئین کی شق 370 مقبوضہ وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق ہے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی حاصل تھی۔ اسی شق کے تحت بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے تھے۔