نہر سوئز میں جہازوں کی آمدورفت بحال

جاپانی بحری جہاز ایور گرین کے نکلنے کے بعد مصر کی نہر سوئز میں جہازو ں کی آمدورفت بحال ہوگئی۔ ایشیا اور یورپ کو ملانے والے اہم تجارتی راستے نہر سوئز کو مکمل طور پر بحال کردیا گیا ہے اور نہر سے بحری جہازوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔

23 مارچ سے نہر سوئز میں پھنسے جاپانی بحری جہاز ایور گرین کو تقریباً ایک ہفتے کی جدوجہد کے بعد گزشتہ روز ریسکیو کیا گیا جس کے بعد جہاز واپس اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگیا۔

نہر میں پھنسے سیکڑوں بحری جہازوں کی آمدورفت شروع ہونے سے عالمی تجارتی نقل و حمل کا عمل بھی مکمل بحال ہوگیا ہے۔

چیئرمین سوئز کنال اتھارٹی نے نہر سوئز کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کو کامیابی سے ہٹانے کے بعد میری ٹائم ٹریفک کی روانی شروع ہوگئی ہے۔

سوئز کنال اتھارٹی کے مطابق بحری جہاز ایور گرین کو بغیر کسی نقصان کے روانہ کیا گیا ہے اور حادثے کے بعد نہر بھی جہاز رانی کے قابل ہے۔

120 میل لمبی اس نہر میں 2 ہزار ٹن وزنی اور 1300 فٹ لمبا جاپانی بحری جہاز گزشتہ ہفتے پھنسا تھا جس کی وجہ سے عالمی تجارتی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔

شپمنٹ کمپنی کا کہنا ہےکہ حادثے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے نتیجے میں کوئی ماحولیاتی آلودگی نہیں ہوئی اور کارگو کا بھی کوئی نقصان نہیں ہوا جب کہ کوئی مکینیکل اور انجن کی ناکامی بھی نہیں پائی گئی۔

120 میل لمبی اس نہر سوئز سے 12 فیصد کے قریب عالمی تجارتی آمدورفت کی جاتی ہے جو بحیرہ روم اور بحیرہ احمر کو جوڑ کر ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک مختصر سمندری راستہ فراہم کرتی ہے۔