اقوام متحدہ کو سری لنکا میں ‘جنگی جرائم’ کے شواہد اکٹھا کرنے کا مینڈیٹ مل گیا

جینیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چیف مشیل بیچلیٹ کو سری لنکا کی طویل خانہ جنگی سے متعلق جرائم کے بارے میں معلومات اور شواہد اکٹھا اور محفوظ کرنے کا مینڈیٹ دے دیا گیا۔ری لنکا میں علیحدگی پسند تامل ٹائیگرز کی شکست کے ساتھ 2009 میں طویل خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔

گروپ کی صورت میں پیش کی گئی برطانیہ کی قرار داد کو ہیومن رائٹس کونسل نے منظور کیا جس کے تحت اپنے دفتر کے عملے کو اختیارات تفویض کیے۔جنیوا میں 47 ممالک کے فورم میں تفتیش کے لیے 22 نے حق میں ووٹ دیے جبکہ چین اور پاکستان سمیت 11 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیے۔

علاوہ ازیں بھارت سمیت 11 ممالک کے نمائندہ غیر حاضر رہے۔برطانوی سفیر جولین بریتھویٹ نے کناڈا، جرمنی، مالاوی، مونٹی نیگرو اور شمالی مقدونیہ پر مبنی ایک گروپ کی جانب سے پیش کردہ متن میں کہا کہ ‘استثنیٰ بہت بڑھ گئی ہے اور اس طرح کے کیسز پر کام رک گیا ہے’۔

لیکن سری لنکا کے سفیر ایم سی اے چندرپریما نے متن کو ‘غیر معاون اور تفرقہ انگیز’ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔قرارداد میں گزشتہ برس کے رجحانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا جس میں ‘انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی نشاندہی کی گئی’۔

ان میں فوجی افسران کو سویلین حکومتی فرائض کی ذمہ داری، عدلیہ کی آزادی میں کمی اور جرائم سے استثنیٰ اور ‘احتساب کی سیاسی رکاوٹ’ شامل ہے۔اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ 26 سالہ جنگ میں 80 ہزار سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ تامل ٹائیگرز نے آزاد ریاست کے حصول کے لیے 26 سال تک لڑائی کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ انہیں بدھ مت سنہالیوں کے اکثریتی ملک میں آزادی کے بعد سے منظم طریقے سے پسماندہ رکھا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے محتاط اندازے کے مطابق اس خانہ جنگی میں سری لنکا میں تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔اس عرصے کے دوران سری لنکا کی حکومت اور باغیوں دونوں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا۔