کانگو: صدارتی انتخاب کے ایک روز بعد اپوزیشن امیدوار کا انتقال

افریقی ملک جمہوریہ کانگو کی اپوزیشن کے اہم صدارتی امیدوار گائبریس پارفیٹ کولیلاس الیکشن کے ایک روز بعد انتقال کر گئے جنہیں کووڈ-19 کے علاج کے لیے فرانس منتقل کیا جارہا تھا۔

گائیبریس پارفیٹ کولیلاس کی انتخابی مہم کے ڈائریکٹر کرسٹییان سائر روڈریگ میانڈا کا کہنا تھا کہ اپوزیشن امیدوار کو صدارتی انتخاب کے ایک روز بعد علاج کے لیے فرانس منتقل کیا جا رہا تھا اور اسی دوران وہ انتقال کر گئے۔انہوں نے کہا کہ کولیلاس کو کانگو کے شہر برازاویل سے میڈیکل ایئرکرافٹ میں روانہ کیا گیا تھا اور وہ اسی طیارے میں دم توڑ گئے۔

61 سالہ کولیلاس کا کورونا ٹیسٹ گزشتہ ہفتے مثبت آیا تھا اور ان کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی تھی جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔سوشل میڈیا میں زیر گردش ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن صدارتی امیدوار آکسیجن ماسک اتار کر اپنے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

اپنے حامیوں سے مخاطب ہو کر ان کا کہنا تھا کہ وہ موت سے لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متحد رہیں میں بستر مرگ پر مقابلہ کر رہا ہوں اور آپ بھی اپنی تبدیلی کے لیے جدوجہد کریں کیونکہ انتخابات آپ کے بچوں کے مستقبل سے متعلق ہیں۔

خیال رہے کہ کولیلاس صدارتی انتخاب میں 77 سالہ ڈینس سیسو این گیسو کے خلاف میدان میں مقابلہ کرنے والے 6 امیدواروں میں شامل تھے اور اپوزیشن کے مرکزی امیدوار شمار کیے جا رہے تھے۔

کانگو کے 2016 کے صدارتی انتخاب میں کولیلاس دوسرے نمبر پر رہے تھے اور ملک میں 1979 سے مجموعی طور پر 36 برس تک حکمرانی کرنے والے ڈینس سیسو کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھے۔

صدارتی انتخاب کے غیر حتمی نتائج جلد متوقع نہیں تاہم 77 سالہ سیسو کی ایک مرتبہ پھر کامیابی متوقع ہے۔دوسری جانب ناقدین اور کانگو کے کیتھولک چرچ نے الیکشن کے روز انٹرنیٹ کی بندش پر شفافیت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انٹرنیٹ ود آؤٹ بارڈرز سمیت تقریباً 50 اداروں نے گزشتہ ہفتے صدر سے اپیل کی تھی کہ انٹرنیٹ کو بند نہ کیا جائے اور 2021 کے صدارتی انتخاب کے دوران انٹرنیٹ تک رسائی بلاتعطل جاری رکھی جائے۔

کانگو میں تقریباً 25 لاکھ ووٹرز ہیں جبکہ اپوزیشن کا سب سے بڑا گروپ پان افریقن یونین آف سوشل ڈیموکریسی یا یو پی اے ڈی ایس نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

قدرتی تیل سے مالا مال فرانس کی سابق کالونی کی معیشت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور کورونا وبا کے دوران بحران کا شکار ہوئی تھی جبکہ کرپشن کے باعث ناقابل تلافی نقصان کی رپورٹس بھی سامنے آتی رہی ہیں۔