یورپی یونین نے میانمار کے جنرلز سمیت فوجی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں

یورپی یونین نے میانمار میں گزشتہ ماہ حکومت پر فوجی قبضے میں ملوث جنرلز سمیت 11 افراد پر پابندیاں عائد کردیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے میانمار میں فورسز کے جمہوریت پسندوں پر تشدد کو ناقابل برداشت قرار دیا۔

یورپی یونین کے 27 رکنی اتحاد کی جانب سے میانمار میں یکم فروری کو آنگ سانگ سوچی کی حکومت کے خاتمے کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور انفرادی طور پر میانمار کی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل من آنگ ہلینگ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم اسسٹنس ایسوسی ایشن فار پولیٹیکل پرزنرز (اے اے پی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق میانمار میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے دوران اب تک تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مظاہروں کے دوران آج میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں 15 سالہ لڑکے سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے اجلاس کے دوران میانمار کے جنرلز پر سفری پابندی اور اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا جبکہ اس سے قبل میانمار پر اسلحے کی پابندی ہے اور 2018 سے اب تک چند سینئر عسکری عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کا کہنا تھا کہ ‘ہم فوجی قبضے اور مظاہرین پر تشدد میں ملوث 11 افراد پر پابندی عائد کرنے جا رہے ہیں’۔

جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے اجلاس سے قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ میانمار میں جمہوریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی ہیں اور اسی لیے ہم پابندیاں عائد کرنے سے گریز نہیں کر پائیں گے۔

یورپی یونین کی پابندیوں کا شکار ہونے والے افراد میں من آنگ ہلینگ اور مائنٹ سوے شامل ہیں جو حکومت پر فوجی قبضے کے بعد قائم مقام صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور دیگر افراد میں فوج اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔میانمار پر مزید سخت پابندیوں کا خدشہ ہے جس کے تحت یورپی یونین فوج کے تحت چلنے والے کاروبار کو نشانہ بنائے گی۔

یورپی یونین کے سفارت کار نے صحافیوں کو بتایا کہ میانمار اکنامک ہولڈنگ لمیٹڈ اور میانمار اکنامک کارپوریشن نشانہ بن سکتے ہیں اور یورپی یونین کے سرمایہ کاروں اور بینکوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔میانمار کی فوج کا کاروبار معیشت سے کان کنی اور غذائی اجناس کی پیداوار، بیوریج، ہوٹلز، ٹیلی کام اور بینکنگ تک پھیلا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے مشن نے 2019 میں دو کمپنیوں اور ان کے ذیلی اداروں پر پابندی کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کہ فوج کو سرمایہ فراہم ہو رہا ہے اور اس کے ذریعے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔گزشتہ ماہ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا نے بھی حکومت کا تختہ الٹنے پر میانمار کے حکمران جرنیلوں پر مختلف پابندیاں عائد کردی تھی۔

برطانیہ نے کہا تھا کہ وہ تین جرنیلوں کے اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں عائد کرے گا جبکہ کینیڈا نے کہا تھا کہ وہ 9 فوجی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا تھا کہ ‘ہم اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر میانمار کی فوج کو انسانی حقوق کی پامالیوں کا ازالہ اور عوام کے لیے انصاف کے حصول کا تقاضہ کریں گے’۔

واضح رہے کہ یکم فروری کو میانمار کی فوج نے ملک میں منتخب سیاسی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور دیگر سیاست دانوں سمیت آنگ سان سوچی کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

فوج کے اس عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو تا حال جاری ہے، جس میں اب تک فورسز کی جانب سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کے باعث متعدد مظاہرین ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

منتخب اراکین پارلیمنٹ کے گروپ، جو روپوش ہیں، کی جانب سے ایک خفیہ پارلیمنٹ قائم کی گئی ہے جسے انہوں نے کمیٹی برائے پیئیڈونگسو ہلوٹو (چی آر پی ایچ) کا نام دیا ہے، جس کا مقصد فوجی حکومت کی مذمت کرنا ہے۔