کرونا وائرس کی پابندیاں، یورپ میں ہزاروں افراد کے مظاہرے

کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کے پیش نظر متعدد یورپی ممالک میں جزوی لاک ڈاؤن عائد کیا گیا ہے جس کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہوسکیں۔یورپ بھر میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے خلاف ہزاروں مشتعل افراد نے ریلیاں نکالیں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے اب تک 27 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور اس کے پھیلاؤ میں ایک بار پھر ایک دم تیزی آگئی ہے، اسی وجہ سے بہت سے یورپی ممالک میں جزوی لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

ان حالات میں پولینڈ اور فرانس کے کچھ حصوں اور یوکرین کے دارالحکومت کیف کے رہائشیوں کو نئی پابندیوں کا سامنا ہے۔

لیکن لوگ معاشی حالات کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور جرمنی، برطانیہ اور سوئٹزر لینڈ میں ہزاروں افراد نے ان پابندیوں کے خلاف مارچ کیا ہے۔

جرمنی کے شہر کیسل میں انتہائی دائیں بازو، انتہائی بائیں بازو اور وبا اور ویکسین کے خلاف بے بنیاد سازشی تھیوریاں پھیلانے والے کارکنوں کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں لوگوں نے لاک ڈاؤن ختم کرو اور کرونا کے باغی جیسے بینرز اٹھا رکھے تھے۔حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، لاٹھیوں اور مرچوں والے اسپرے کا استعمال کیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق مظاہرین کی تعداد 15 سے 20 ہزار کے درمیان تھی اور یہ اس سال نکلنے والی سب سے بڑی ریلیوں میں سے ایک ہے۔

لندن میں بھی ہزاروں افراد نے کرونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا، بہت سے مظاہرین نے کرونا وائرس کے خلاف سازشی تھیوریز والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

میٹرو پولیٹن پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی پر 36 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 100 کے قریب مظاہرین نے پولیس افسران پر مختلف چیزیں پھینکیں۔

اس کے علاوہ ایمسٹر ڈیم، ویانا، بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ اور سوئٹزر لینڈ کے قصبے لیسٹل میں بھی پابندیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔