سعودی عرب: رمضان میں ملازمین کے اوقات کار کیا ہوں گے؟

ریاض: سعودی وزارت افرادی قوت وسماجی بہبود نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملازمت کے نئے نظام میں ورکرز کے اوقات کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

سعودی حکومت نے آجروں سے کہا ہے کہ وہ رمضان المبارک میں ریلیف کے طور پر ملازمت کے دورانیے کو کم کریں۔ جبکہ مملکت میں کام کے جو اوقات کار تھے ویسے ہی رہیں گے۔

سعودی وزارت افرادی قوت کا کہنا ہے کہ کارکنوں کے ہفتہ وارتعطیل کے حوالے سے بھی کسی قسم کی ترمیم نہیں کی گئی ہے، یہ آجر پر منحصر ہے کہ کارکنوں کی ہفتہ وار تعطیل اور یومیہ کام کے گھنٹے مقرر کرے۔

ادھر سعودی عرب کے معروف وکیل نایف المرشدی نے خبردار کیا ہے کہ مفرور خادماؤں اور گھریلوملازمین کو روزگار دینے پر بھاری جرمانہ اور جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

سعودی عرب میں بالخصوص رمضان میں خادماؤں اور گھریلو ملازمین کو ملازمت پر زیادہ رکھا جاتا ہے اس حوالے سے سعودی وکیل نے تنبیہ کی ہے کہ ملازمین کو چانچ پڑتال کے بعد روزگار دیا جائے، گھر میں کام کرنے والی خادمائیں یا ملازمین مفرور ہوئیں تو سخت کارروائی ہوگی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں ملازمت کے نئے قوانین نافذ ہوچکے ہیں، اور اس حوالے مرحلہ واروضاحتیں بھی پیش کی جارہی ہیں۔ جبکہ صارفین آن لائن معلومات بھی حاصل کررہے ہیں۔