سعودی عرب کا بڑا اقدام! اب غیرملکی بھی کاروبار میں سعودیوں کے شریک بن سکتے ہیں

ریاض : سعودی شہریوں کے نام پر غیرملکیوں شہریوں کے کاروبار کو قانون کے دائرے میں لانے کےلیے سعودی حکام نے قانون وضح کرلیے۔

سعودی عرب نے مقامی شہریوں کے نام پر غیرملکیوں کے کاروبار کو غیر قانونی قرار دیا تھا تاہم اب اسے قانون دائرے میں لانے کےلیے سعودی نے قانون سازی کی ہے جس کے تحت غیرملکی شہری قانونی طور پر سعودی عرب میں کاروبار کرسکتے ہیں۔سعودی حکام نے کہا ہے کہ غیرملکیوں شہری پانچ شرائط پر عمل کرکے سعودی شہریوں کے ساتھ کاروبار میں شریک بن سکتے ہیں۔

سیکریٹری تجارت عایض الغوینم نے کہا ہے کہ پہلی اور دوسری شرط یہ ہے کہ متعلقہ تجارتی ادارے کی مجموعی آمدنی 4 کروڑ ریال سے زیادہ ہو یا تجارتی ادارے کے کارکنان کی تعداد 50 سے اوپر ہو۔

تیسری اور چوتھی شرط یہ ہے کہ ’سجل تجاری‘ کے اجرا کی تاریخ مہلت سے پہلے کی ہو اور سرمایہ تدریجی طور پر تین سال تک بڑھایا جائے گا جبکہ پانچویں شرط کے تحت سعودی کفیل کی منظوری ضروری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: طیاروں کی خریداری سعودی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ کاروبار کو قانونی بنانے کےلیے غیرملکی شہری خود درخواست دے سکتا ہے اور جس سعودی کے نام پر کاروبار کیا جارہا ہو وہ بھی درخواست جمع سکتا ہے۔

عایض الغونیم کا کہنا تھا کہ نئے ادارے نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد سعودیوں کے نام سے غیرملکیوں کے کاروبار کے انسداد کے قانون کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے معاملات کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔