امریکا پیوتن سے متعلق سنگین بیان پر معافی مانگے ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ روسی حکام کی دھمکی

ماسکو : روسی سینیٹر نے صدر ولادی میرپیوتن کیخلاف دئیے گئے بائیڈن کی بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی بڑھے گی، امریکا معافی مانگے۔

امریکی صدر جوبائیڈن کے بیان نے روس اور امریکا کے درمیان کئی سالوں میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے جبکہ ماسکو نے امریکا سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلالیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ تعلقات تباہی کے دہانے پر ہیں۔

امریکی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پیوتن پر امریکی صدارتی انتخابات سے متعلق سنگین الزامات کی بوچھاڑ کی گئی تھی جس پر روسی فیڈریشن کونسل کے ڈپٹی اسپیکر سینیٹر کونسٹنٹن کوساچیف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے سنگین بیان پر معافی مانگے ورنہ بات یہاں ختم نہیں ہوگی، صدر یا مملکت سے متعلق ایسے بیانات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

کونسٹنٹن کوساچیف کا کہنا تھا کہ ولادی میر پیوتن سے متعلق امریکی صدر بائیڈن کے بیانات دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈالیں گے۔
یہ بھی پرھیں: جوبائیڈن کے پیوٹن سے متعلق بیان کے بعد روس نے امریکا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

روسی سینیٹر نے کہا کہ امریکا میں تعینات روسی سفیر کو مشاورت کے لئے واپس بلایا جانا فوری اور مناسب ردعمل ہے لیکن امریکا نے معافی نہیں مانگی تو بات یہاں ختم نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو قاتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عنقریب قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پیوٹن کو بہت اچھے سے جانتا ہوں، انہیں مداخلت کی قیمت ادا کرنا ہوگی، میری نظر میں وہ امریکی شہریوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں‘ جس پر روسی صدر نے طنزاً کہا تھا کہ ’ہر کوئی دوسرے کو اپنے جیسا سمجھتا ہے‘۔