برطانوی پولیس افسر پر خاتون کے قتل کا الزام، ہزاروں افراد کا احتجاج

لندن: برطانیہ میں خاتون کے اغوا اور قتل کا الزام میں گرفتار ایک برطانوی پولیس افسر کو پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کردیا گیا جبکہ ہزاروں افراد نے واقعہ کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ 3 مارچ کی شام کو 33 سالہ سارہ ایوراڈ جنوبی لندن میں اپنے ایک دوست کے اپارٹمنٹ سے گھر جاتے ہوئے لاپتا ہوگئی تھیں۔

48 سالہ برطانوی پولیس افسر وین کوزنز پر سارہ ایورارڈ کو اغوا اور قتل کرنے کا الزام ہے۔میٹرو پولیٹن پولیس نے واقعہ پر برہمی اور صدمے کا اظہار کیا کہ ان کا ایک افسر جرم کے الزام میں گرفتار ہے۔

پولیس عہدیدار نے بتایا کہ کوزنز نے 2018 میں فورس میں شمولیت اختیار کی اور حال ہی میں پارلیمنٹ اور سفارتخانے کی بطور سیکیورٹی افسر کام کیا۔گرے رنگ کا ٹریک سوٹ پہننے کوزنز کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مختصر سماعت کے دوران ان پر عائد الزامات پڑھے گئے۔

ارہ ایورارڈ کی لاش لندن کے جنوب مشرق میں کینٹ کے وڈ لینڈ کے ایک علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔کچھ لوگوں نے سارا کی یاد گاری پروگرام طے کیے لیکن ہائی کورٹ کے ایک جج نے کہا کہ کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے اس طرح کا اجتماع غیر قانونی ہوگا۔

میٹروپولیٹن پولیس نے زور دیا کہ وہ قوم کے غم و غصے کو سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے خطرے کے پیش نظر محتاط رہنا ضروری ہے۔

مظاہرین اور پولیس کی جھڑپیں
علاوہ ازیں غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق لندن پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی جو واقعے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

بیشتر خواتین پر مشتمل تقریباً ایک ہزار مظاہرین سارہ ایورارڈ کی تعزیت کے لیے جمع ہوئے اور ساتھ ہی انہوں نے عدم تحفظ کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی اور کہا کہ ’پولیس کو اپنے فعل پر شرمندہ ہونا چاہیے‘۔بیشتر خواتین نے تنہا گھر سے باہر نکلنے پر عدم تحفظ کا اظہار کیا۔

مظاہرین کی جانب سے شدید نعرے بازی کے بعد پولیس نے مداخلت کی اور متعدد خواتین کو کلفام کامن سے گھسیٹتے ہوئے دور لے گئی۔واضح رہے کہ مقتولہ کو جنوب مغربی لندن میں کلفام کامن کے مقام پر آخری بار دیکھا گیا تھا۔

ہزاروں افراد نے کلفام کامن کے مقام پر سارہ ایورارڈ سے اظہار تعزیت کے لیے موم بتیاں روشن کیں اور پھولوں کے گلدستے رکھے۔