امریکا: پولیس کے ہاتھوں قتل جارج فلائیڈ کے اہلخانہ نے تصفیہ کرلیا

امریکی پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کے اہلخانہ اور منی پولِس شہر کی انتظامیہ کے درمیان تصفیہ ہوگیا۔ منی پولِس سٹی کونسل اور جارج فلائیڈ کے اہلخانہ کے تصفیے میں جارج کے اہلخانہ کو 27 ملین ڈالرز کی رقم ادا کی جائے گی۔

جارج کے قتل میں نامزد منی پولِس پولیس کے سابق افسر کے ٹرائل کے لیے جیوری تشکیل دی جارہی ہے جس میں 29 مارچ سے شروع ہونے والی سماعت کے لیے 12 میں سے 6 ججوں کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔

ریاست منی سوٹا کے شہر منی پولِس کی سٹی کونسل نے جارج فلائیڈ کے کیس میں متفقہ طور پر پری ٹرائل تصفیے کی منظوری دی جو ریاست منی سوٹا میں اب تک پری ٹرائل کا سب سے بڑا تصفیہ ہے۔

سٹی کونسل سے تصفیے کے بعد جارج کے اہلخانہ کے وکلا کا کہنا تھا کہ جارج کے قتل کی ویڈیو نے تبدیلی اور انصاف کا ناقابل تردید مطالبہ کیا جب کہ ایک انتہائی غلط موت کے کیس میں سب سے بڑا پری ٹرائل تصفیہ ہمیشہ سیاہ فاموں کو ایک طاقتور پیغام دے گاکہ سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی معنی رکھتی ہیں اس لیے نسلی بنیاد پر لوگوں کے خلاف پولیس کا ظلم ختم ہونا چاہیے۔

واضح رہےکہ گزشتہ برس امریکا میں چند پولیس اہلکاروں کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں پولیس نے ایک سیاہ فام شہری کو دبوچ رکھا تھا اور ایک پولیس افسر نے اس کی گردن پر گھٹنا رکھا ہوا تھا جس پر شہری نے بار بار پولیس کو سانس لینے میں دشواری سے آگاہ کیا لیکن پولیس اہلکار نے اس کی بات نہ مانی جب کہ شہری جارج فلائیڈ دم گھٹنے سے موقع پر ہلاک ہوگیا۔

سیاہ فام شہری کی ہلاکت کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد امریکا سمیت مختلف یورپی ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے نام سے ایک تحریک بھی شروع ہوئی تھی۔