کئی ماہ بعد اسکول جانے والے بچے کو پہلے ہی روز گھر بھیج دیا گیا

برطانیہ میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد پہلے روز اسکول جانے والے طالب علم کو بالوں کے اسٹائل کی وجہ سے آئسولیشن میں بھیج دیا۔

تیرہ سالہ لیالن ہاگ نامی طالب علم 6 ماہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد پہلے روز تیار ہوکر اسکول پہنچا تو انتظامیہ نے اُسے واپس گھر بھیج دیا۔

اسکول انتظامیہ نے طالب علم کو گھر واپس بھیجنے کی وجہ کچھ یوں بیان کی کہ لیالن ہاگ ’جنگلیوں کی طرح‘ بال کٹوا کر آیا جس کی وجہ سے اُسے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔

لیالن ہاگ ڈیون میں قائم ’ایکس ماؤتھ کمیونٹی کالج‘ میں زیر تعلیم ہے۔ وہ 9 مارچ کو اس امید کے ساتھ اسکول پہنچا کہ کئی ماہ بعد دوستوں سے ملاقات ہوگی۔

لیالن نے 45 منٹ تک اسکول کے باہر کھڑے ہو کر داخلے کی اجازت مانگی جس پر پرنسپل نے اُسے گھر بھیجا اور آئسولیشن اختیار کرنے کا حکم دیا۔

طالب علم کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’لیالن نے اسکول جانے کی خوشی میں خاص طور پر بال کٹوائے تھے، میرا نہیں خیال وہ بال کٹوانے کے بعد جنگلیوں کی طرح نظر آرہا ہے، اسکول انتظامیہ نے نظم و ضبط کو بنیاد بنا کر بچے کو واپس بھیج دیا‘۔

والدہ کا کہنا تھا کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی بچے کی تعلیم متاثر ہوئی، اب اسکول انتظامیہ نے اُسے واپس بھیج دیا، تعلیم کے ہونے والے حرج کا ذمہ دار کون ہوگا۔

والدہ نے بتایاکہ لاک ڈاؤن کے دوران جب حجام کی دکانیں بند تھیں تو اُس نے گھر پر ہی بال کاٹے تھے جس کی وجہ سے اُس کے بال خراب ہوگئے۔