کیا کرونا کی نئی لہر پاکستان میں داخل ہوچکی؟

اسلام آباد: چند دنوں کے دوران کرونا کیسز میں ہوشربا اضافے پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اہم بیان جاری کرتے ہوئے عوام کو خبردار کردیا ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیابھر میں کرونا وائرس کی نئی اقسام داخل ہوچکی ہیں اور واضح طور پر پاکستان میں بھی عالمی وبا کی نئی لہر داخل ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پنجاب کے بڑے شہروں سمیت پورا ملک نئی لہر کی زد میں ہے ، نئی لہر کے باعث کرونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ کرونا کی نئی قسم تیزی سے پھیلتی ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عالمی وبا سے لڑنے کے لئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، اگر بد احتیاطی کی گئی تو لہر بری طرح پھیل سکتی ہے۔اپنے بیان میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے عوام سے درخواست کی کہ احتیاطی تدابیر پر سختی عمل کریں۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں کرونا کے مثبت کیسز میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 2 ہزار 701 کرونا کیسز رپورٹ جبکہ 54 مریض دم توڑ گئے۔

این سی او سی کے مطابق ملک میں گذشتہ 24گھنٹے میں کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنےکی شرح 6.56 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور ملک بھر میں کرونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 18 ہزار 703 تک جاپہنچی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلی عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 8،693 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ صوبے میں اب تک 5،697 کرونا کے مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب میں کورونا کے 36 مریضوں کا انتقال ہوا جبکہ اب تک صوبے میں 34لاکھ اسی ہزار753 کے ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں، کورونا کی موجودہ لہر کو روکنے کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔

گذشتہ روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی پریس کانفرنس میں کرونا کیسز بڑھنے کا جواز دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ سے شہریوں کی واپسی کے بعد کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ لوگوں کی جانب سے بھی احتیاط میں کمی آئی۔