کانگریس کی حکومت میں کسان مخالف قوانین واپس ہوں گے: پریانکا گاندھی

سہارنپور: کانگریس کی سیکریٹری پریانکا گاندھی نے کہا ہے کہ جب کانگریس کی حکومت آئے گی تو سبھی کسان مخالف قوانین واپس ہوں گے۔ اتر پردیش میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی سیکریٹری پریانکا گاندھی آج کسان مہا پنچایت میں پہنچی، اور مودی سرکار کے عائد کر دہ ظالمانہ کسان مخالف قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں سے خطاب کیا۔

انھوں نے کہا جب کانگریس کی حکومت بنے گی تو قانون آپ کی مدد کے لیے بنیں گے، نہ کہ آپ کو پیسنے کے لیے، ہم آپ کے دلوں کے ساتھ اور زندگی کے ساتھ سیاست نہیں کریں گے، مذہب اور ذات کے نام پر آپ کو نہیں توڑیں گے، یہ سارے قانون واپس ہوں گے اور آپ کو ایم ایس پی کی پوری قیمت ملے گی۔

پریانکا نے مرکز کی مودی حکومت کو کسان مخالف، مزدور مخالف اور عوام مخالف قرار دیا، اور کہا 56 انچ کے سینے کے اندر ایک چھوٹا سا دل ہے جو صرف کچھ صنعت کاروں کے لیے دھڑکتا ہے، جاگ جائیں، جن سے آپ امید رکھ رہے ہیں یہ آپ کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔
مزید پڑھیں: بھارتی سیکیولرازم کا پردہ فاش کرنے پر فلم “برننگ انڈیا ” کے لئے بڑا اعزاز

انھوں نے کہا 16 ہزار کروڑ کے 2 ہوائی جہاز لے لیے اور 20 ہزار کروڑ پارلیمنٹ کی سجاوٹ میں صرف کر دیے، لیکن کسانوں کے بقایا 15 ہزار کروڑ آج تک نہیں دیے۔متنازعہ زرعی قوانین کے حوالے سے کسانوں کی جاری تحریک کا تذکرہ کرتے ہوئے پریانکا گاندھی نے کہا یہ آپ کی زمین کی تحریک ہے، آپ پیچھے مت ہٹیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، جب تک یہ بل واپس نہیں ہوتے تب تک ڈٹے رہنا ہے۔

واضح رہے کہ کانگریس جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی نے آج صبح ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ کسانوں کے دل کی بات سننے، سمجھنے اور ان سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے سہارنپور پہنچیں گی۔