میانمار: اقتدار پر قبضے کے بعد فوج کا بڑا اعلان

نیپیداو: میانمار کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں نافذ العمل خارجہ پالیسی کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ میانمار میں دفاعی خدمات کے کمانڈر ان چیف جنرل من آنگ ہلینگ نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میانمار میں ایک سال کی ایمرجنسی کے دوران دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات بحال رہیں گے۔ اسی طرح ایگزیکٹو اور معاشی پالیسیوں میں بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی، میانمار اپنی موجودہ سیاسی راہ پر چلتا رہے گا، اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

میانمار کی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا کہ جب شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور سویلین حکومت کی دوبارہ بحالی کا مطالبہ کیا، مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔عوام میانمار کے شہر یانگون اور مانڈلے میں شدید احتجاج کررہے ہیں، اس دوران آنگ سان سوچی سمیت دیگر رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔

خیال رہے کہ یکم فروری کو فوج نے میانمار کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد فوجی جرنل آنگ ہوئنگ نے ملک بھر میں ایک سال ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔دوسری جانب میانمار میں اقتدار پر فوج کا قبضہ ہونے کے بعد نیوزی لینڈ نے سفارتی تعلقات منسوخ کردیے۔