دُبئی میں مقیم امام مسجد کی ہوشیاری کے آگے نوسربازوں کی ایک نہ چلی

دُبئی میں مقیم ایک امام مسجد کی سمجھداری نے ایک نوسربازگینگ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔ ان افراد پرامام مسجد کو سادہ طبیعت سمجھ کر رقم دُگنی کرنے کا جھانسہ دے کر ہزاروں درہم ہتھیانے کی کوشش کی تھی، جو اُلٹی ان کے گلے پڑ گئی۔ امام مسجد نے پولیس کو اعتماد میں لیا، جس کے بعد امام مسجد نے خود کو سادہ لوح ظاہر کر کے اس گینگ کو رنگے ہاتھوں پکڑوا دیا۔

افریقی ملک موریطانیہ سے تعلق رکھنے والے45 سالہ امام مسجد کا کہنا تھا کہ وہ دُبئی میں گزشتہ 20 سال سے مقیم ہیں۔ اکتوبر 2020ء میں ایک افریقی نے ان سے ملاقات میں کہا کہ وہ انہیں کانگو کے ایک سابق وزیر سے ملوانا چاہتا ہے۔اس شخص کے اصرار پر امام مسجد نے اس وزیر سے شاپنگ مال میں ملاقات کی جس نے دعویٰ کہ اس کے پاس 25 ملین ڈالر کی رقم موجود ہے۔

اس کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جس سے وہ رقم کو دُگنا کر سکتا ہے۔ تاہم مجھے شک ہوا کہ یہ شخص کوئی فراڈیا ہے۔ جس پر میں نے پولیس کو خبردار کر دیا۔“ پولیس نے اس گینگ کو پکڑنے کے لیے امام مسجد کی مدد سے ایک منصوبہ تیار کیا، جس کے تحت ان ملزمان کو بُر دُبئی کے ایک ہوٹل میں رقم دُگنی کرنے کے لیے بُلوایا گیا۔امام مسجد نے اس فراڈیئے گینگ کو کہا کہ وہ بھی اپنے پاس موجود رقم دُگنی کروانا چاہتے ہیں۔

جب یہ جعلی وزیر اپنے دو ساتھیوں سمیت امام مسجد کے پاس پہنچا ۔ گینگ کے ارکان نے اسے ایک کالا کاغذ دکھایا اور پھر اس پر ایک کیمیکل کا سپرے کیا، جس کے بعد یہ کالا کاغذ ڈالر کے نوٹ میں بدل گیا۔ جعلی وزیر نے امام مسجد سے کہا کہ کاغذ کو نوٹوں میں بدلنے والا یہ سپرے بہت قیمتی ہے، وہ اسے پانچ ہزار درہم میں خرید سکتا ہے۔

تاہم اسی موقع پر پولیس نے دھاوا بول کر ان تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ جن میں سے دو کا تعلق کیمرون جبکہ ایک کا یوگینڈا سے ہے۔ ملزم کے خلاف مقدمے کا فیصلہ 2 مارچ کو سُنایا جائے گا۔