ابوظبی میں خاوند نے قرض واپس نہ کرنے پر بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا

میاں بیوی کا رشتہ بہت مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔ دونوں زندگی بھر کے ساتھی ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے رازدار ہوتے ہیں اور پردہ پوشی بھی کرتے ہیں۔ ان کے درمیان مادی معاملات کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی۔ تاہم کچھ خاوند اور کچھ بیویاں بھی انتہائی خود غرض ہوتی ہیں ، جو رقم کے تنازعے پر ایک دوسرے کو دُنیا بھر کے سامنے بدنام کرنے پر تُل جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک معاملہ ابوظبی میں بھی پیش آیا ہے، جہاں ایک خاوند نے رقم واپس نہ کرنے کے معاملے پر اپنی بیوی کو عدالت میں گھسیٹ لیا ہے۔ ایک نوجوان کی جانب سے مقامی عدالت میں اپنی بیوی کے خلاف نادہندگی کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔ عرب نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی نے اس سے کچھ مُدت کے لیے 37 ہزار درہم کی رقم اُدھار لی تھی جو وہ اب واپس نہیں کر رہی ہے، اسے رقم واپس دلوائی جائے۔

نوجوان نے بتایا کہ اس کی بیوی نے کہا کہ وہ کینیڈا کے ویزے کے لیے اپلائی کر نا چاہتی ہے، جس دوران اسے اپنی بینک اسٹیٹمنٹ مضبوط دکھانے کے لیے کچھ ہزار درہم کی ضروت ہے۔ اس نے بیوی کے اکاؤنٹ میں 37 ہزار درہم کی رقم عارضی مُدت کے لیے جمع کرا دی تھی۔ تاہم اب بیوی یہ رقم اسے واپس کرنے سے مُکر گئی ہے۔ خاوند کا مزید کہنا تھا کہ اسے بعد میں پتا چلا کہ بیوی نے کینیڈا کے ویزے کے لیے اپلائی نہیں کیا تھا اور سارا ڈراما رقم ہتھیانے کے لیے تھا۔

اس کی دھوکے باز بیوی نے جب رقم واپس نہیں کی تو اس نے عدالت سے رقم واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مُدعی نے مطالبہ کیا کہ اسے بیوی سے 37 ہزار درہم کی رقم واپس دلوائی جائے اورجتنا عرصہ اس نے رقم اپنے پاس رکھی، اس پر 12 فیصد کے حساب سے سُود بھی دلوایا جائے۔ اس نے بیوی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی جانے والی رقم کی رسید بھی پیش کی۔دوسری جانب خاتون کا کہنا تھا کہ اس نے خاوند سے کوئی قرض نہیں لیا تھا، بلکہ خاوند کے مشکل وقت میں اس کی مدد کے لیے جیولری بیچ کر رقم ادا کی تھی۔

خاوند نے بعد میں اسی رقم کے بدلے 37 ہزار درہم اکاؤنٹ میں جمع کروا دیئے تھے۔ اس نے کوئی دھوکا دہی نہیں کی، وہ اپنے خاوند سے محبت کرتی ہے۔ عدالت نے خاوند سے بیوی کو رقم ادھار دینے کا ثبوت مانگا تو وہ کوئی ثبوت یا گواہ پیش نہ کر سکا۔ عدالت نے سماعت سُننے کے بعد خاوند کا دعویٰ مسترد کر دیا اور اسے مقدمے کے اخراجات بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔