’پاکستان پوری اُمت مُسلمہ کے لیے اہم ہے، سعودی عرب پاکستان کو ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے“

سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی لازوال اور بے مثال ہے۔ دونوں ممالک نے تمام معاملات پر ہمیشہ ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے، کوئی بھی تیسری طاقت ان برادر مسلم ممالک کی دوستی میں دراڑ ڈال سکی ہے اور ان شاء اللہ نہ کبھی اس میں کامیاب ہو گی۔ پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے پاکستان سے محبت اور قربت سے متعلق اہم بیان دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان پوری امت مسلمہ کے لئے بہت اہم ہے۔ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کی عمدہ صلاحیت موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کمرشل اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بہتر معاشی ترقی حاصل کرنے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کے مثبت پہلوؤں کو زیادہ اجاگر کیا جائے تا کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی طرف زیادہ راغب ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا پاکستان کی مثبت چیزوں کو زیادہ اجاگر کرے جس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پایا جانے والا غلط تاثر دور ہو گا اور پاکستان کی حقیقی معاشی صلاحیت سے بہتر استفادہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بہت خوشگوار تعلقات قائم ہیں، لیکن تقریبا ساڑھے تین ارب ڈالر کی باہمی تجارت دونوں کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔

لہٰذا اس کو بہتر کرنے کے لئے دونوں طرف سے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب محدود اشیاء میں تجارت کر رہے ہیں اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لے مزید اشیاء کی تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہت سی اعلی معیار کی مصنوعات بشمول حلال فوڈ پروڈکٹس،فارماسوٹیکلز ، ٹیکسٹائل، آلات جراحی ، چاول، پھل، ڈیری مصنوعات، کھیلوں کا سامان ، چمڑے کی مصنوعات، فنانشل سروسز ، انشورنس اور آئی ٹی سروسز اور دیگر سعودی عرب کی مارکیٹ میں بہتر مقبولیت حاصل کر سکتی ہے لہذا سعودی عرب پاکستان سے ان مصنوعات کی درآمد پر توجہ دے۔

سردار یاسر الیاس خان نے مزید کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے کیلئے تجارتی وفود کا تبادلہ بڑھائیں اور ایک دوسرے کے ملک میں منعقد ہونے والی تجارتی نمائشوں میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں متعدد اسپیشل اکنامک زونز قائم کئے جا رہے ہیں لہذا سعودی عرب کے سرمایہ کار ان میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے ون ونڈو قائم کرنے پر کام کر رہا ہے جس سے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں آسانی ہوگی۔فاؤنڈر گروپ آئی سی سی آئی کے چیئرمین میاں اکرم فرید نے پاکستان کے مفادات کو فروغ دینے کے لئے سعودی سفیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اسپیشل اکنامک زونز سعودی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش مواقع رکھتے ہیں لہذا وہ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی آئی ایک نئی انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے لئے کوششیں کر رہا ہے لہذا سعودی عرب کے سرمایہ کار اس میں صنعتی یونٹس لگانے کے امکانات کا جائزہ لیں۔