کیا ٹرمپ کو قبل از وقت اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے گا؟

واشنگٹن: امریکا میں صدر ٹرمپ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپٹل ہل پر جس طرح کا تشدد دیکھنے کو ملا اس نے امریکا ہی نہیں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کی وجہ سے ٹرمپ کے خلاف غصہ بڑھ رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے چند کابینہ ممبران اور ری پبلکن رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار سے قبل از وقت ہٹانے کے لیے 25 ویں ترمیم کو نافذ کرنے کے تناظر میں تبادلہ خیال کرنا شروع کر دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے ٹرمپ کو اقتدار سے ہٹانے اور نائب صدر مائک پنس کو ذمہ داری سونپنے کی راہ ہم وار ہو جائے گی، تاہم اس ترمیم کے راستے کی بڑی رکاوٹ دو تہائی ارکان کی حمایت کا حصول ہے، جس کے لیے بڑی تعداد میں ری پبلکن رہنماؤں کی حمایت درکار ہوگی۔اگر اس ترمیم پر عمل ہوتا ہے تو نہ صرف صدر ٹرمپ کو وقت سے پہلے صدارت کے عہدے سے ہٹنا پڑے گا بلکہ وہ آئندہ کے لیے بھی صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کے اہل نہیں رہیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے بدھ کے روز کیپیٹل ہل کی عمارت (پارلیمنٹ ہاؤس) میں دنگا فساد کیا تھا، ٹرمپ کے حامیوں کے تشدد سے 5 افراد کی موت ہو گئی تھی۔