سعودی عرب میں خواتین کا کیے جانے کا انکشاف

اسلام میں اسقاطِ حمل کی سختی سے ممانعت ہے بلکہ اسے گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس عمل کو ایک انسانی جان کاقتل قرار دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں اسقاطِ حمل پر پابندی عائد ہے تاہم اب کچھ مقامات پر چوری چھپے یہ خلاف قانون اور خلاف شریعت آپریشنز کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران ریاض ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے ایک غیر ملکی خاتون ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے جو ایک پرائیویٹ میڈیکل کمپلیکس میں قائم اپنے کلینک میں ایک خاتون کا حمل گرانے کا آپریشن کر رہی تھی۔

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو اس لیڈی ڈاکٹر کے بارے میں مخبری ہوئی تھی کہ وہ مشہور میڈیکل کمپلیکس میں بھاری رقم وصول کر کے اسقاطِ حمل کے آپریشن کر رہی ہے ۔حالانکہ اس کے کلینک پر مطلوبہ طبی آلات اور حفظان صحت سے متعلق ماحول بھی موجود نہیں تھا۔ یہ لیڈی ڈاکٹر ان ناجائز آپریشنز کے ذریعے حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی تھی۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک خاتون کو مریض بنا کر بھیجا گیا جس نے اسقاطِ حمل کی خواہش ظاہر کی۔

لیڈی ڈاکٹر نے7 ہزارریال کے عوض یہ ناجائز کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ ثبوت میسر آنے کے بعد اس خاتون ڈاکٹر کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی گئی۔ اسے گرفتار کر کے اس کا کلینک بند کر دیاگیا ہے۔ ملزمہ کے خلاف جلد مقدمہ چلایا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں، البتہ اگر کسی خاتون کی جسمانی اور ذہنی حالت ٹھیک نہیں، یا حمل کی وجہ سے خاتون کی زندگی کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں اسقاطِ حمل کروایا جا سکتا ہے۔

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس کلینک میں ایکسپائرڈ ادویات اور آلات استعمال ہو رہے تھے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے وارننگ دی ہے کہ اگر کوئی طبی ادارہ اسقاطِ حمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ جن میں مالکان یا ذمہ داران کے خلاف سزا اورجرمانہ بھی شامل ہے۔