دُبئی میں نوجوان شہریوں اور رہائشیوں کو ویکسین لگوانے کے لیے مزید کئی ماہ انتظار کرنا ہو گا

دبئی میں وزارت صحت کے اہلکار نے بتایا ہے کہ آئندہ سال 2021 کے آخر تک دبئی کی70 فیصدآبادی کو فائزر اور بائیوٹیک کے ذریعہ تیار کی جانے والی کورونا ویکسین سے دے دی جائے گی۔ متحدہ عرب امارات کے مالیاتی مرکز نے گذشتہ ہفتے حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا تھا۔پہلے مرحلے میں ویکسین کے لیے ترجیحی بنیادوں پر گروپ بنائے گئے ہیں ان میں 60 سال سے زائد عمر کیعلاوہ ایسے افراد جو کسی دائمی مرض میں مبتلا ہیں یا معذور افراد اور خاص طور پر کورونا وائرس سے لڑنے میں فرنٹ لائن کارکنان کو شامل کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی نے عام لوگوں کے لیے چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ (سینوفرم) کی تیار کی گئی کورونا ویکسین تجویز کی ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے رواں ماہ کے شروع میں دبئی فائزر ویکسین استعمال کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا تھا۔دبئی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی چیئر پرسن فریدہ خواجہ نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2021 کے آخر تک دبئی کی تقریبا 70 فیصد آبادی کے لیے کورونا ویکسین لگانے کا ہدف بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد کورونا وائرس سے بچنے کے لیے عوام میں قوت مدافعت بڑھانے کی ضرورت پر زور دینا ہے۔ فریدہ خواجہ نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں اپریل 2021 میں کورونا وائرس کی ویکسین کے دوسرے مرحلے کاآغاز کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں دیگر تمام شہریوں اور رہائشیوں کو ویکسین لگوانے کے لیے کہا جائے گا۔دبئی میں رہائش پذیر عماد علوی جو کارنل یونیورسٹی کے سینئراہلکار ہیں انہوں نے فائزر بائیو ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی ڈوز لگوائی ہے۔عماد علوی نے بتایا ہے کہ میں دمہ کی بیماری میں مبتلا ہوں اس وجہ سے اس ویکسین کا انتخاب کیا ہے اور مجھے ڈاکٹروں پر اعتماد ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ویکسین میرے لیے ٹھیک ہے۔