عرب نوجوان نے سنگدلی اور بے حِسی کی انتہا کر دی

والدین کا رتبہ اللہ اور اس کے رسول کے بعدسب سے زیادہ ہے۔ ہمارے مذہبی احکامات کے مطابق اگر والدین جھڑکیں یا مار پیٹ بھی کریں تو انہیں اُف تک کہو۔ کیونکہ وہ بڑی محنت اور لگن سے ہمیں پروان چڑھاتے ہیں اور زندگی کی سختیوں کو خود سہہ کر ہمیں بہت سی تکالیف اور مشکلات سے بچائے رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے والدین کی فرمانبرداری اور سعادت مندی ہم پر فرض ہے۔

تاہم کچھ لوگ ماں باپ کی حُرمت سے ناواقف ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ اپنے لیے دوزخ کے دروازے کھول لیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بدبخت بیٹے نے اپنے والدین کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک کیا کہ کویت بھر میں عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کویت کے علاقے سلویٰ کی پولیس نے ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا ہے۔

جس نے آدھی رات کے وقت اپنے بزرگ والد اور والدہ کو نوکر سمیت گھر سے باہر نکال دیا۔ والدین اور نوکر ساری رات شدید سردی میں ٹھٹھرتے رہے، اور اپنے بیٹے سے دروازہ کھول دینے کی التجائیں کرتے رہے، مگر اس ظالم انسان کے دل میں کوئی رحم نہ آیا۔ آخر 60 سالہ بزرگ شہری نے پولیس اسٹیشن جا کر اپنے بیٹے کے خلاف ناروا سلوک کی شکایت درج کرا دی۔ جس میں بتایا گیا کہ ان کا بیٹا ان کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کرتا ہے۔

گزشتہ روز اس نے انہیں گھر سے باہر نکال کر ساری رات سڑک پر جما دینے والی سردی میں رہنے پر مجبور کیے رکھا۔ پولیس نے رپورٹ درج کرنے کے بعد بزرگ کے گھر جا کر اس کے بیٹے کو گرفتار کر لیا، جو اس وقت منشیات کے نشے میں دُھت تھا۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی اس نوجوان کے منشیات کے عادی ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ بزرگ شہری نے بتایا کہ نوجوان اس سے نشے کے لیے رقم کا تقاضا کرتا تھا، آخر تنگ آ کر جب اس نے رقم دینے سے انکار کیا تو اس نے انہیں گھر سے باہر نکال دیا۔