یو اے ای میں مقیم پاکستانی جعلی پولیس اہلکاروں کی لوٹ مار سے کیسے محفوظ رہیں؟

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی تارکین کے ساتھ ایسی کئی وارداتیں پیش آتی ہیں جن میں کچھ لوگ خود کو پولیس اہلکار کر کے ان سے رقوم اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر تارکین ان کے جھانسے میں اس لیے آ جاتے ہیں کیونکہ انہیں یہ نہیں پتا ہوتا کہ اصلی پولیس اہلکار کی نشانی کیا ہے اور اس کا سڑک پر تفتیش یا تلاشی کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے۔

اس حوالے سے شارجہ پولیس نے ایک آگاہی مہم ”دھوکا دہی کا نشانہ بننے سے پہلے ہی ہوشیار ہو جائیں“شروع کی ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امارات میں ایسے کئی واقعات پیش آتے ہیں جن میں کچھ فراڈیے جعلی پولیس اہلکار بن کر سادہ لوح افراد سے رقم، موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لیتے ہیں۔اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر جعلی پولیس اہلکاروں کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہوتا ہے۔

کریمنل اینڈ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل عمر سلطان بوالزود نے بتایا کہ اس نوعیت کی زیادہ بیشتر وارداتیں انڈسٹریل ایریاز میں پیش آتی ہیں۔ اگر کوئی شخص آپ کو روک کر خود کو پولیس والا ظاہر کرے توپہلے اس سے محکمے کا شناختی کارڈ طلب کریں جس پر اس کا نام درج ہو گا اور تصویر بھی چسپاں ہو گی اورپولیس ملازم کا مخصوص آئی ڈی نمبر بھی ہو گا۔

پولیس اہلکاروں کی دوسری بڑی شناخت ان کا یونیفارم اور اس پر لگے بیج ہیں۔ پولیس اہلکارآپ سے صرف شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس یا گاڑی کی رجسٹریشن کی دستاویزات مانگ سکتے ہیں۔ کوئی بھی اصلی پولیس اہلکار آپ کی تلاشی کے دوران نہ تو پرس مانگتا ہے اور نہ موبائل کی چیکنگ کر سکتا ہے۔ انہیں یہ چیزیں پکڑانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ ایمرجنسی اور غیر معمولی حالات میں پرس یا دیگر دستاویزات کی تلاشی لی جا سکتی ہے، مگر اس کے لیے سرکاری استغاثہ سے پیشگی اجازت لینی پڑتی ہے۔

اگرآپ کو کسی کے اصلی پولیس اہلکار ہونے پر شک ہے تو 999 پر کال کریں ۔ اگر آپ ایسے کسی نوسرباز گروہ کے ہاتھوں فراڈ کا نشانہ بن گئے ہیں تو ایسی صورت میں فوراً قریبی پولیس اسٹیشن پہنچ کر واقعے کی اطلاع دیں تاکہ ملزمان تک جلد از جلد رسائی ہو سکے اور آپ کی لوٹی گئی رقم اور قیمتی سامان واپس ہو سکے۔