سعودی بندرگاہ پر کھڑے آئل ٹینکر میں زوردار دھماکہ

سعودی عرب کے شہر جدہ کی بندرگاہ کے قریب موجود ایک آئل ٹینکر پر تخریب کاری کے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ اس مبینہ حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم سعودی عرب میں گزشتہ کچھ عرصے سے آئل تنصیبا ت پر ہونے والے حملوں کے پیش نظر اسے حوثی ملیشیا کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ آئل ٹینکر سنگاپور کی ایک شپنگ کمپنی حفنیہ کی ملکیت ہے جس کے مالک کا کہنا ہے کہ اس کے آئل ٹینکر کو جدہ کے ساحل کنارے حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ BW Rhine نامی اس آئل ٹینکر کے مالک کا مزید کہنا ہے کہ اس کے آئل ٹینکر پر بیرونی طور پر حملہ ہویا ہے جس کے
اس آئل ٹینکر پر 22 افراد سوار ہیں جو اس حملے میں محفوظ رہے ہیں کیونکہ ساحل سمندر سے فائر بریگیڈ اور ٹگ بوٹس کی جانب سے ہنگامی طور پر کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

تاہم ابھی تک سعودی حکام کی جانب سے اس آئل ٹینکر پر ہونے والے دھماکے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ جدہ کی بندرگاہ سعودی آئل کمپنی آرامکو کی جانب سے تیل کی دُنیا بھر کو درآمد کے لیے ایک اہم ساحلی مقام خیال کی جاتی ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ اس دھماکے کے بعد تیل کی کچھ مقدار بہنا شروع ہو گئی ہو ، تاہم اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔ لندن کی ایک سمندری انٹیلی جنس فرہم نے بھی جدہ کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل بھی سعودی بندرگاہ پر ایک آئل ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم بروقت کارروائی کی وجہ سے آگ کو بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس طرح تیل تنصیبات کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔