خلیجی ریاست عمان میں پاکستانی لڑکا لاپتہ ہو گیا

خلیجی ریاست میں روزگار کی غرض سے مقیم ایک پاکستانی اور اس کے گھر والوں پر اس وقت قیامت بیت رہی ہے، جن کا جوان بیٹا کئی روز سے لاپتہ ہو گیا ہے۔ عمانی پولیس کی لاکھ کوششوں کے باوجود پاکستانی لڑکے کا کوئی سُراغ نہیں مل سکا۔ جس کی وجہ سے یہ پاکستانی بہت اذیت میں مبتلا ہے اور انہوں نے عمان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے بھی اپنے کم سن بیٹے کی تلاش میں مدد دینے کی درخواست کی ہے۔

عمانی پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 17 سالہ پاکستانی لڑکا ملک طاہر 30 نومبر2020ء سے لاپتہ ہے۔ پندرہ روز کی گمشدگی کے دوران اس کا کوئی اتا پتا نہیں چل سکا۔ اگر کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہے تو پولیس سے رابطہ کر کے اس کی تلاش میں مدد دے۔پولیس نے مزید بتایا کہ گمشدہ لڑکا ملک طاہر اپنے والدین کے ہمراہ السویق ولایت میں مقیم ہے۔ جو 30 نومبر کو اچانک لاپتہ ہو گیا، جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں مل سکی۔

اس کے والدین بہت پریشان ہیں۔ پولیس کی جانب سے بچے کے گھر سے ناراض ہو کر جانے کے پہلو پر بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بچے کی تصاویر جاری کر کے لوگوں سے اس کی اطلاع دینے کی اپیل کی گئی ہے مگر ابھی تک ان تمام کوششوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ عمان کی رائل پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اس 17 سالہ نوجوان کے بارے میں کچھ پتا ہے تو وہ رائل پولیس کے آپریشنز سنٹر کے رابطہ نمبر 9999 پر اطلاع دے سکتا ہے یا پھر اپنے قریبی پولیس اسٹیشن پر جا کر بھی پولیس کو معلومات دے سکتا ہے۔ پولیس کی جانب سے نوجوان کی تلاش کے لیے ایک انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو اس کا پتا چلانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔