”میں اب صرف خود کُشی کا سوچ رہا ہوں“:پاکستانی شہری احمد سُہیل کی فریاد

دُبئی میں مقیم پاکستانی شہری احمد سہیل زین حالات اور بیوی کی تشویش ناک حالت سے اس قدر پریشان ہو گیا ہے کہ اس نے خود کُشی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ دُبئی کے علاقے النہدہ میں اپنی بیوی شمیمہ فوزی اور دو کم عمر بچوں کے ساتھ مقیم احمد سہیل انتہائی پریشان کُن حالات کا شکار ہے۔ اس کے حالات پہلے بھی کچھ اچھے نہ تھے، اور اب اس کی بیوی کورونا کے باعث تشویشناک حالت میں وینٹی لیٹر پر پڑی ہے۔

47 سالہ زین نے بتایا کہ وہ 2014ء میں دُبئی آیا تھا، جہاں اس نے 2019ء تک ایک مشہور سیکیورٹی فرم میں سینیئر آپریشنز مینجر کے عہدے پر جاب کی۔ اس دوران اس کے حالات بہترین تھے، مگر 2019ء میں نوکری جانے کے بعد حالات بدترین ہونے لگے۔ کورونا کی وبا شروع ہونے کے باعث زین کو نئی نوکری ملنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔کئی ماہ تک اس کی 40 سالہ بیوی شمیمہ فوزی ہی گھر کا خرچہ چلاتی رہی جو ایک اسکول میں مونٹیسری ٹیچر تھی۔

زین نے بتایا ”بے روزگاری کے دور میں بھی میں نے دُبئی میں رہائش اختیار کیے رکھی۔ اس مقصد کے لیے میں نے ویزہ بھی لے لیا تھا تاکہ مجھے کوئی نئی نوکری مل جائے اور ساتھ ساتھ میری 19 سالہ بیٹی فضہ اور 16 سالہ بیٹے احمد ارحم کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہ سکے۔ مگر کورونا وبا کے دوران معاشی بحران کی لپیٹ میں میری بیوی بھی آ گئی، جسے اسکول والوں نے ملازمت سے فارغ کر دیا۔

ہمارے حالات اس وقت کے بعد قابلِ رحم ہو چکے ہیں۔ میرا بیٹا اور بیٹی کئی ماہ کی اسکول فیس ادا نہ کرنے کے باعث گھر پر ہی بیٹھ گئے ہیں اور ان کا تعلیمی سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ مگر وہ پھر بھی ہمیں اور خود کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے بڑی مصیبت یہ آگئی ہے کہ میری بیوی شمیمہ اور مجھے چند روز پہلے کورونا ہوا۔ میری حالت تو سنبھل گئی۔

مگر شمیمہ کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ اس وقت وہ الزاید کے ایک ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر پڑی ہے۔ڈاکٹرز نے اس کی حالت تشویش ناک قرار دے دیا ہے۔ میں نے 9 ماہ سے اپنے فلیٹ کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا۔ اوپر سے بیوی کی حالت ایسی ہے کہ میں نے خود کُشی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی شخص مجھے نوکری دے دے، تاکہ میں اپنے بچوں کا کیریئر جاری رکھ سکوں۔ اور اپنے حالات کو سدھارنے کی کوئی اُمید پیدا ہو سکے۔ میں لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میری مالی امداد کر کے مجھے اس مشکل کی گھڑی سے نکال لیں۔ “