اسرائیل نے اگلے ماہ ابوظبی میں سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان کر دیا

اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفارت خانہ اور قونصلیٹ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2021ء کے پہلے ہفتے میں امارات میں ایمبیسی اور قونصلیٹ قائم کیا جائے گا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خلیج ٹائمز کو بتایا ”ہمیں اُمید ہے کہ دسمبر کے پہلے ہفتے یا جنوری2021ء کے پہلے ہفتے میں سفارت خانہ قائم ہو جائے گا۔

ہم (اسرائیل) ابوظبی میں سفارت خانہ قائم کریں گے جبکہ قونصلیٹ جنرل دُبئی میں بنایا جائے گا۔“ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ قونصلیٹ اور ایمبیسی کا قیام اسرائیل امارات کے تعلقات میں ایک اور اہم موڑ ثابت ہو گا۔” ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا یہ قونصل خانہ اور سفارت خانہ دُنیا میں سب سے بڑے مشنز ہوں گے ۔مگر یہ ضرور بتا سکتے ہیں کہ امارات میں بڑے رقبے پر سفارت خانہ اور قونصل خانہ تعمیر کیا جائے گا۔

امارات میں قائم سفارت خانے اور قونصلیٹ جنرل واشنگٹن، لندن اور ماسکو کے مشنز جتنے ہی بڑے ہو سکتے ہیں۔“ ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیل کا ایک وزارتی وفد سفارتی مشنز کے لیے مناسب جگہ کے انتخاب کی خاطر امارات آیا تھا۔ اس وزارتی وفد نے ابوظبی اور دُبئی کا دورہ کیا۔ فی الحال جگہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔

اس وزارتی وفد نے خلیج کوآپریشن کونسل (GCC) میں شامل ایک اور ملک بحرین کے دارالحکومت منامہ کا بھی دورہ کیا تھا۔ بحرین امارات کے بعد دوسرا خلیجی ملک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کر لیے ہیں۔ امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے متعلق امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب میں 15 ستمبر کو شرکت کی تھی جس میں اسرائیلی وزیر اعظم اور بحرینی و اماراتی قیادت نے امن سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اسرائیل نے 25 ستمبر کو امارات کو ایک مراسلہ بھیج کر ابوظبی میں سفارت خانہ قائم کرنے کی درخواست کی تھی