سعودی عرب: ملازمین کے لئے نیا قانون اجرت کیا ہے؟

سعودی عرب نے ہوٹلوں اور دیگر اداروں میں فی گھنٹہ اجرت کا قانون متعارف کرادیا ہے، قانون متعارف کرانے کا مقصد سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا ہیں۔

سعودی وزارت افرادی قوت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’سافٹ روزگار سسٹم ‘ (نظام العمل المرن) سے نجی شعبے کو کافی فائدہ ہوگا جس کے تحت انہیں نہ صرف سعودائزیشن کے اہداف حاصل کرنا آسان ہوجائیں گے بلکہ کارکن کے دیگر حقوق بھی انکے ذمہ نہیں ہونگے۔سافٹ ورکنگ سسٹم کی وضاحت کرتے ہوئے وزارت افرادی قوت کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت آجر سعودی کارکنوں کی خدمات ’فی گھنٹہ‘ اجرت کے تحت حاصل کرسکیں گے۔

وزارت افرادی قوت کے حوالے سے مزید کہا کہ اس سسٹم کے تحت کمپنیوں میں سعودی کارکن عارضی اور وقتی بنیاد پر حاصل کیے جاسکیں گے، اور نظام العمل المرن کے تحت حاصل کیے گئے کارکن کو ’نطاقات ‘ پروگرام میں ایک تہائی حصہ کے طور پر شمار کیا جائے گا جو آجر کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس سسٹم کے تحت آجر کارکن کو تنخواہ کے ساتھ چھٹی ، میڈیکل انشورنس، نوکری کے خاتمہ پر حقوق ادا کرنے کا پابند نہیں ہوگا، سافٹ روزگار سسٹم یا ’نظام العمل المرن‘ کے ذریعے کمپنیاں نطاقات کا ہدف باآسانی حاصل کرسکیں گی جس سے انکے معاملات بہتر ہوں گے۔

رجسٹریشن کا طریقہ کار

سافٹ پروگرام کو وزارت افرادی قوت کی ویب ’ایم آر این ڈاٹ ایس اے‘ کے ذریعے رجسٹر کرایا جائے گا جس کے بعد اسے ابشر اور سوشل انشورنس سے منسلک کیاجائے گا تاکہ آجر و اجیر کے حقوق محفوظ رہیں۔وزارت افرادی قوت کا مزید کہنا تھا کہ اس سسٹم کے تحت ہوٹل، ریسٹورنٹس ، کیفےٹیریاز، فٹنس سینٹرز ، تفریحی مقامات، میڈیا اینڈ مارکیٹنگ، لا فرم، ٹیکنیکل ادارے، سیاحت اور شعبہ ٹرانسپورٹ اور ہوم ڈلیوری سروسز کے ادرے مستفیض ہوسکتے ہیں-