سعودی عرب میں قرآن مجید کے مشہورپروف ریڈر انتقال کر گئے، جنت البقیع میں دفن کر دیا گیا

قرآن کریم دُنیا بھر کے لیے رشد و ہدایت کا خزانہ اور سرچشمہ ہے۔جو اس الہامی کتاب میں درج الٰہی پیغام کی معرفت کا پا گیا، وہ فلاح کے راستے پر گامزن ہو گیا۔ اللہ کی یہ کتاب انسانی کی بھلائی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ دُنیا بھر میں مسلمان قرآن مجید کی طباعت اور پروف ریڈنگ کے کام کو بڑی مذہبی خدمت سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔

ایسی ہی ایک شخصیت شیخ محمد الاغاثہ تھے۔ جن کوسوموار کے روز انتقال ہو گیا ۔ شیخ محمد الاغاثہ کا شمار دُنیا بھر میں قرآن مجید کے بہترین پروف ریڈرز میں ہوتا تھا۔جو مدینہ منورہ میں کنگ فہد کمپلیکس برائے طباعت قرآن مجید سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہے۔ جس دوران انہوں نے قرآن مجید کے ان گنت نسخوں کی پروف ریڈنگ کی۔ان کی اس صلاحیت کی ایک دُنیا معترف تھی اور ان سے پروف ریڈنگ کرانے کو ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔

کنگ فہد کمپلیکس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ محمد الاغاثہ سوموار کے روز انتقال کر گئے تھے، جن کی نماز جنازہ مسجد نبوی میں ادا کرنے کے بعد انہیں مشہور قبرستان بقیع میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ سعودی وزیر برائے اسلامی امور ، دعوت و ارشاد شیخ ڈاکٹر عبد اللطیف بن عبد العزیز آل الشیخ نے شیخ الاغاثہ کی وفات پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
شیخ محمد الاغاثہ افریقی ملک ماریطانیہ میں پیدا ہوئے ۔ اپنی پروف ریڈنگ کی بہترین صلاحیت پر وہ کنگ فہد کمپلیکس برائے پرنٹنگ قرآن شریف سے کئی دہائیوں تک منسلک رہے۔ ان کی وفات پر سعودی عرب کے مذہبی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بہت دُکھ کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعائیں بھی کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل روضہ رسول اور حجرہ مبارک کی کئی دہائیوں تک خدمت کرنے والے بزرگ آغا احمد علی یاسین انتقال کر گئے تھے۔

ان کی نماز جنازہ گزشتہ روز سوموار کو مسجد نبوی میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا تھا۔آغا احمد علی یاسین ان چند اغوات (آغا کی جمع) میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی مسجد نبوی شریف کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اغوات حرمین شریفین میں صفائی، نظم و ضبط اور خواتین و مردوں کو الگ الگ کرنے کے کام پر مامور ہیں۔