”امارات میں لوگ کھُلے عام اسرائیلی مصنوعات خرید رہے ہیں

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد سفارتی، ثقافتی اور تجارتی و طبی میدانوں میں تیزی سے تعاون بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اشیاء کا تبادلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے معروف پاکستانی اینکر و تجزیہ کار کامران خان نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے ۔ جس میں ایک یہودی باشندہ اماراتی ریاست دُبئی کی ایک مارکیٹ میں کھڑا اسرائیلی مصنوعات کی سرعام فروخت پر بہت خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔

اس وائرل ویڈیو میں ماسک پہنے یہ یہودی نوجوان کہتا ہے ” میں اس وقت دُبئی فریش فوڈز مارکیٹ میں کھڑا ہوں۔ اس مارکیٹ کے عین داخلی دروازے کے سامنے اسرائیلی پھلوں اور سبزیوں کا سٹال لگایا گیا ہے جہاں پر اسرائیلی اور امارتی پرچم اکٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔لیکن میں آپ کو اوربھی کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔ اس اسرائیلی پراڈکٹس کے سٹال پر سنگترہ، ناشپاتی اور دیگر پھل بھی موجود ہیں۔

اس اسٹال پر اسرائیل کا پرچم بھی نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ میں ان سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حق میں یورپ، امریکا اورکچھ عرب ممالک میں مہم چلاتے ہیں۔یہ اسٹال ان لوگوں کو ایک بھرپور جواب ہے۔ یہاں پر لوگ آ کر پھل اور کھجوریں خرید رہے ہیں۔ اور یہ بات دھیان میں رکھیں کہ یہ اسٹال اس سُپر اسٹور کے پچھلی جانب چھُپ چھپا کر نہیں لگایا گیا، بلکہ اسٹور میں داخل ہوتے ہی سامنے دکھائی دے جاتا ہے۔سو یہاں لوگ سب کے سامنے اسرائیلی اسٹال سے اشیاء خرید رہے ہیں۔ سو یہ اس ملک یعنی امارات کی جانب سے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والوں کو ایک بھرپور جواب ہے۔“ صحافی کامران خان نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا ”دُنیا یکسر بدل گئی، وہم و گمان نہیں تھا کہ عرب اسرائیل دشمنی عرب اسرائیل دوستی میں بدل جائے گی،پاکستان سمیت 13 مسلمان ممالک کے لئے UAE کے ویزے محدود اسرائیلیوں کے لئے Visa on arrival کی سہولت ہوگی، وڈیو میں جسے اسرائیلی شہری نے دبئی کی سپر مارکیٹ میں فلمبند کیا، پاکستان کے لئے سبق ہے۔