سعودی عرب کے تجارتی جہاز پر بارودی کشتی کا حملہ

بارودی کشتی کو جہاز کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم بارودی ٹکڑے لگنے سے جہاز کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔سعودی عرب کی سمندری حدود میں ایک تجارتی جہاز پر بارودی کشتی کا حملہ ناکام ہو گیا ہے۔ تاہم بارودی کشتی کے ٹکڑے گرنے سے تجارتی جہاز پر رکھے ایک آئل ٹینکر کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب کی زیر قیادت فوجی اتحاد برائے یمن کے ترجمان کرنل تُرکی المالکی نے بتایا کہ جنوبی بحر احمر میں حوثیوں کی جانب سے ایک دہشت گردانہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آور بارودی کشتی تباہ کر دی گئی ہے۔

ٹی ایم ایس ٹینکرز کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ سعودیہ کی الشفیق بندرگاہ پر پٹرول آف لوڈ کرنے کے بعد ٹینکر جنوبی بحر احمر سے گزر رہا تھا جب اس دہشت گردی کے حملے میں اسے نقصان پہنچا۔ کرنل تُرکی کے مطابق حوثی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے ذریعے ایران کی مدد سے جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کونقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب پر گزشتہ روز ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک پیٹرول اسٹیشن پر آگ بھڑک اْٹھی تھی۔

تاہم حکام نے کئئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد اس آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ سعودی وزارت توانائی کے معتبر ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے ہے کہ جدہ کے شمال میں واقع ایک آئل پلانٹ پر گزشتہ روز صبح ساڑھے پانچ بجے کروز میزائلز سے حملہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں وہاں کے ایک بڑے آئل ٹینک میں آگ بھڑک اْٹھی۔تخریب کاری کے اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئیں۔جنہوں نے آگ پر قابو پا لیا۔ اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزارت توانائی کے مطابق اس فیول اسٹیشن پر ہونے والی تخریب کاری سے مملکت کو تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی۔سعودی مملکت کی جانب سے اس دہشت گردانہ حملے کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، اس کے علاوہ اماراتی حکومت نے بھی ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔