قطر: ایئرپورٹ کے باتھ روم میں نوزائیدہ کو پھینک جانے والی خاتون مل گئیں

قطری حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں دوحہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باتھ روم میں نوزائیدہ کو پھینکنے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی۔گزشتہ ماہ اکتوبر کے آغاز میں دوحہ ایئرپورٹ کے حکام کو آسٹریلیا جانے والی فلائیٹ کے وقت باتھ روم سے ایک نوزائیدہ بچی ملی تھی، جس پر حکام نے طیارے سے خواتین کو اتار کر ان کا ’زچگی معائنہ‘ کیا تھا۔

مذکورہ خبر اکتوبر کے آخر میں اس وقت سامنے آئی تھی جب کہ آسٹریلوی حکومت نے قطری ایئرپورٹ پر اپنی شہری خواتین کے استحصال پر مذمت کی تھی۔آسٹریلوی حکومت کے بیان کے بعد قطری حکومت نے معافی مانگی تھی اور بتایا تھا کہ خواتین کی تلاشی اس وقت لی گئی تھی جب ایئرپورٹ کے باتھ روم سے نوزائیدہ بچی ملی تھی۔

رپورٹ کے مطابق قطری ایئرپورٹ پر 2 اکتوبر کو کم از کم ڈیڑھ درجن خواتین کا ’زچگی معائنہ‘ کیا گیا تھا اور جن خواتین کا معائنہ کیا گیا تھا، ان کا تعلق آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ سے تھا۔آسٹریلوی حکومت کے بعد برطانوی و نیوزی لینڈ کی حکومت نے بھی قطری حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا جب کہ دنیا بھر سے قطر پر تنقید کی گئی تھی۔

تاہم قطری حکام نے خواتین کے ’زچگی معائنے‘ پر کہا تھا کہ مذکورہ قدم حفاظت کے پیش نظر اٹھایا گیا، کیوں کہ حکام کو خدشہ تھا کہ بچے کو جنم دینے والی خاتون کی صحت بھی خطرے میں ہوگی۔

اگرچہ تلاشی کے دوران بچے کو جنم دے کر اسے باتھ روم میں پھینکنے والی خاتون کی شناخت نہیں ہوسکی تھی مگر اب قطری حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ خاتون کو تلاش کرلیا گیا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قطری حکام کی جانب سے 23 نومبر کو جاری کیے گئے بیان میں تصدیق کی گئی ایئرپورٹ کے باتھ روم میں بچی کو چھوڑ کر جانے والی خاتون کی شناخت کرلی گئی۔بیان میں بتایا گیا کہ باتھ روم میں نوزائیدہ بچی کو چھوڑ جانے والی خاتون کا تعلق ایشیائی ملک سے ہے اور ان کے ایک مرد کے ساتھ ’ناجائز جنسی تعلقات‘ تھے۔

حکام کے مطابق خاتون نے بچی کو جنم دینے کے بعد اس کے والد کو تصویر بھی بھیجی تاہم بعد ازاں انہوں نے بچی کو ایئرپورٹ کے باتھ روم میں پھینک دیا۔حکام نے تصدیق کی کہ بچی کے والد کی بھی ڈی این اے کے ذریعے شناخت کرلی گئی اور انہوں نے بھی خاتون کے ساتھ ’ناجائز جنسی تعلقات‘ کا اعتراف کیا۔

قطری حکام کے مطابق باتھ روم میں بچی پھینکنے والی خاتون کا تعلق ایشیائی ملک سے ہے —فوٹو: قطر ایئرویز فیس بک
قطری حکام نے بتایا کہ بچی کو جنم دینے کے بعد باتھ روم میں چھوڑ جانے والی خاتون کے خلاف فوجداری مقدمات عائد کیے جائیں گے اور اگر ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں 15 سال تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

اسی طرح بیان میں تصدیق کی گئی کہ ایئرپورٹ کے سیکیورٹی افسران پر بھی فوجداری مقدمات عائد کرکے کارروائی کی جائے گی اور ان پر الزام ثابت ہونے پر انہیں تین سال جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بچی کے والد پر بھی کوئی مقدمہ دائر کیا جائے گا یا نہیں اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ بچی کی والدہ اور والد اس وقت کہاں ہیں اور ان کا تعلق ایشیا کے کس ملک سے ہے؟

اگرچہ مذکورہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد واقعہ ہے تاہم قطر میں پہلے بھی نوزائیدہ بچے مختلف مقامات سے ملتے رہے ہیں۔قطر میں شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش جرم ہے اور مذہبی حوالے سے بھی اس کی ممانعت ہے تاہم وہاں کام کرنے والی غیر ملکی خواتین کو متعدد بار نوزائیدہ بچوں کو جنم دینے کے بعد پھینکنے میں ملوث پایا گیا ہے۔