دُبئی کے ایک گھر میں ہونے والی واردات کا ڈراپ سین، گھر کا بھیدی ملوث نکلا

دُبئی کی عدالت نے تین پاکستانیوں کو ڈکیتی کے ایک مقدمے میں 3،3 سال قید کی سزا سُنا دی ہے، ملزمان پر تین تین ہزار درہم کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سزا کی مُدت پوری ہونے پر انہیں فوراً ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے بُر دُبئی کے ایک ولا میں صبح سویرے اس وقت واردات کی جب ایک آئرش خاتون ٹیچر کچن میں اپنی بیٹیوں کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی۔

ملزمان نے خاتون اور اس کی دونوں بیٹیوں کو خوفزدہ کرنے کے بعد لوٹ مار کی اور پھر فرار ہو گئے۔ ملزمان جاتے وقت دھمکی دے کر گئے تھے کہ پولیس کو اطلاع دینے کی صورت میں ان کے ساتھ اور بُرا سلوک ہو گا۔ تاہم خاتون کی بڑی بیٹی نے پولیس کو اطلاع دے دی۔پولیس نے تین ملزمان کو شارجہ سے گرفتار کر لیا جبکہ چوتھا پاکستانی مفرور ہے۔ جو اسی گھر میں مالی کا کام کرتا تھا۔

اسی نے ملزمان کو واردات کے لیے اس گھر کی نشاندہی کی تھی اور مناسب وقت کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا۔ 58 سالہ آئرش خاتون نے بتایا کہ وہ ایک سکول میں ٹیچر ہے۔ اگست 2020ء کی ایک صبح وہ ناشتہ بنا رہی تھی جب اس کے گھر میں تین نقاب پوش ڈاکو داخل ہوئے جن کے ہاتھوں میں چاقو اور لوہے کی راڈ تھیں۔ ایک نقاب پوش نے کچن میں داخل ہو کر اسے خوفزدہ کیا تو وہ زمین پر گر گئی اور اسے کہا کہ وہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے اور جو کچھ رقم چاہیے لے جائے۔

اسی دوران میری بیٹیاں بھی اوپری منزل سے آ گئی۔ ملزم نے ایک بیٹی کا بازو بھی پکڑ لیا تھا، تاہم اسی دوران میری دوسری بیٹی نے اسے چار سو درہم پرس سے نکال کر دے دیئے۔ اور میں نے بھی انہیں اپنے پاس موجود رقم دے دی۔ جاتے ہوئے انہوں نے ہمیں پولیس کو اطلاع دینے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی، مگر میری 17 سالہ بیٹی نے پولیس کا اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق ولا میں پہنچنے پر ماں بیٹیاں خوف سے کانپ اور رو رہی تھیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا گیا تاہم اسی گھر میں مالی کا کام کرنے والا ملزم فی الحال مفرور ہے۔ عدالت نے کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو سزا سُنا دی ہے۔