اسرائیل اور متحدہ عرب امارا ت کے درمیان امن معاہدے کے بعد اہم اعلان ہو گیا

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کو دُنیا بھر میں بہت زیادہ تعریفی نظروں سے دیکھا گیا اگرچہ اس پر تنقید بھی بہت زیادہ ہوئی تاہم مغربی ممالک کی جانب سے اسے خلیج کے خطے میں امن عمل کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے بعد ابوظبی کے ولی عہد اور اماراتی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو 2021ء کے نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ نوبل انعام یافتہ لارڈ ڈیوڈ ٹرمبلے کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو مشترکہ طور پر 2021ء کے نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ڈیوڈ ٹرمبلے شمالی آئرلینڈ کے سابقہ وزیر تھے جنہوں نے 1998ء میں شمالی آئرلینڈ کے سیاسی تصفیے کے حل کے لیے بھرپور کوششوں کے باعث نوبل امن انعام حاصل کیا تھا۔

نامزدگی کے بعد نوبل پرائز کمیٹی شیخ محمد اور نیتن یاہو کو 2021 ء کا نوبل پرائز کا مشترکہ انعام دینے کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا تھا کہ نوبل پرائز کے قوانین کے مطابق کوئی بھی نوبل امن انعام جیتنے والا کسی اور کو آئندہ کے امن انعام کے لیے نامزد کر سکتا ہے۔ اب یہ کمیٹی پر ہے کہ اس کا کیا فیصلہ ہو گا۔ واضح رہے کہ 2021 ء کے نوبل امن انعام کے حقدار کا اعلان آئندہ سال اکتوبر میں ہو گا، جس کا انتخاب نارو ے کی پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کی گئی پانچ افراد کی کمیٹی کرے گی۔ اگلے سال کے امن انعام کے لیے نامزدگیاں بھجوانے کی آخری تاریخ یکم فروری 2021ء ہو گی۔