پومپیو طالبان مذاکرات کاروں سے ملاقات کریں گے

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو قطر میں طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کاروں سے ملاقات کریں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ سنیچر کو وزیر خارجہ مائیک پومپیو افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقات کریں گے۔ مائیک پومپیو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اور قطری وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کریں گے۔

سبکدوش ہونے والے اعلیٰ امریکی سفارتکار یورپ اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ نے 15 جنوری تک افغانستان سے تقریباً دو ہزار فوجی نکالنے کا اعلان کیا تھا جبکہ پانچ سو سے زائد فوجی عراق سے واپس بلائے جائیں گے۔ اس کے بعد دونوں ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2500 رہ جائے گی .امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ افغانستان میں یہ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے جس کا آغاز طالبان کے خلاف حملے سے ہوا تھا۔

نومنتخب صدر جوبائیڈن بھی افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے حامی ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ انخلا کا ٹائم ٹیبل جلدی نہیں دیں گے۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق سے مزید فوجیوں کی واپسی کا اعلان کیا ہے.طالبان پہلی بار افغان حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ دونوں فریقین کے مابین 12 ستمبر کو دوحہ میں بات چیت کا آغاز ہوا تاہم اس بات چیت میں اختلاف سامنے آئے ہیں۔ ایک سے زائد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا اختلافات کے باوجود دونوں فریقین نے کچھ معاملات حل کر لیے ہیں۔

اب تک دونوں فریقین کو بات چیت میں جن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ان میں ایک مشترکہ زبان سے متعلق اتفاق رائے بھی تھا۔ حال ہی میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے سینکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے.دوسرا طالبان جو کہ سخت گیر سنی ہیں اور فقہ حنفی کے نفاذ پر زور دیتے ہیں لیکن حکومت مذاکراتی ٹیم کا کہنا ہے.کہ یہ ہزارہ برادری کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے جو کہ شیعہ مسلک سے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور متنازع موضوع یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ کیسے مستقبل کا افغان امن معاہدے کی تشکیل کرے گا اور اس کا حوالہ کیسے دیا جائے گا۔