دُبئی میں پاکستانی مکینک اور بھارتی حجاموں کی بہت بڑی واردات

دُبئی: پاکستان اور بھارت کے باشندوں کے آپسی تعلقات کوئی زیادہ خوشگوار نہیں ہے، تاہم یو اے ای میں یہ بات غلط ثابت ہو جاتی ہے، جہاں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی اتفاق سلوک سے رہتی ہے، بلکہ کئی بار تو دونوں ممالک کے جرائم پیشہ افراد مل کر ایسی بڑی واردات انجام دیتے ہیں کہ حکام بھی چکرا کر رہ جاتے ہیں۔

دُبئی میں بھی ایک پاکستانی ایئرکنڈیشننگ مکینک نے دو بھارتی حجاموں کے ساتھ اتنی بڑی واردات کر ڈالی کہ جس نے سُنا ، حیران پریشان ہو گیا۔پولیس نے18 لاکھ درہم کی واردات کرنے والے دونوں بھارتی حجاموں کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم پاکستانی ملزم مفرور ہو چکا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک بینک کے کسٹمر سروس کے نمائندے کو جعلی شناخت کے ذریعے اکاؤنٹ ہولڈر ہونے کا جھانسہ دے کر نئی چیک بک اور ڈیبٹ کارڈ نکلوا لیا اور پھر اس میں سے 18 لاکھ درہم (پاکستانی تقریباً ساڑھے سات کروڑ روپے) نکلوا لیے۔

اکاؤنٹ ہولڈر کو اس واردات کا کچھ روز بعد پتا چلا تو شکایت درج کرانے پر پولیس نے ملزمان کا سراغ لگا کر دو کو گرفتار کر لیا تاہم پاکستانی ملزم فی الحال مفرور ہے۔اس واقعے کی رپورٹ الرفا پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی۔ استغاثہ کے مطابق 26 سالہ اور 27 سالہ دو بھارتی باشندوں نے خود کو بینک کا اکاؤنٹ ہولڈر ظاہر کر کے چیک بک اور ڈیبٹ کارڈ نکلوائے اور پھرچیک پر جعلی دستخط کے ذریعے اکاؤنٹ سے رقم نکلوا لی۔
ان افراد نے کسٹمر سروس کے نمائندے کوذاتی معلومات سے متعلق سوالات کے بھی درست جواب دیئے تھے جس کے بعد ان کے بتائے گئے ایڈریس پر چیک بک اور ڈیبٹ کارڈ روانہ کر دیئے گئے۔ بینک کے مطابق ملزمان نے پُرانی چیک بک اور کارڈ گم ہونے کے بہانے سے نئی چیک بک اور ڈیبٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے اکاؤنٹ ہولڈرز کی موبائل لائن کا ہی استعمال کیا۔ انہیں کوریئر کمپنی کے ذریعے چیک بک اور ڈیبٹ کارڈ بھیجا گیا۔
ملزمان نے کوریئر کمپنی کے ایجنٹ کو ایسا جعلی اماراتی کارڈ دکھایا جس پر نام تو اکاؤنٹ ہولڈر کا تھا مگر تصویرچیک بک اور کارڈ وصول کرنے والے ایک ملزم کی تھی۔ ملزمان کے ایئر کنڈیشنر ریپرنگ کے کام کرنے والے پاکستانی مکینک نے 9 لاکھ 28 ہزار درہم کا چیک جمع کروا کر رقم نکلوائی تھی۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ 55 ہزار درہم کی شاپنگ جیولری شاپس اور دیگر آؤٹ لیٹس سے کی گئی۔گرفتار ملزمان کے خلاف فیصلہ 7 دسمبر کو سُنایا جائے گا۔