ایران نے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کیلیے مشروط رضا مندی ظاہر کردی

تہران: ایران نے نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن سے ایران پرعائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوبارہ جوہری معاہدے میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔ وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ اگر نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن تہران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرتے ہیں تو ایران 2015 کے جوہری معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ یہ کام فوری طور پر صرف تین ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ کہ جواد ظریف نے انٹرویو کے دوران امریکا سے کسی بھی قسم کی امداد پر اصرار نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جوبائیڈن امریکی وعدوں پر عمل کے لیے تیار ہیں تو ہم بھی فوری طور پر اپنے مکمل وعدوں کے مطابق معاہدے پر واپسی کرسکتے ہیں اور اس معاہدے کے فریم ورک کے اندر ہی مذاکرات ممکن ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم اس پر بات چیت کے لیے تیار ہیں کہ امریکا کس طرح اس معاہدے میں واپسی کرسکتاہے، اس سلسلے میں صورتحال آئندہ چند ماہ میں بہتر ہوگی کیونکہ جوبائیڈن تین ایگزیکٹو آرڈرزکے ذریعے ایران پر عائد پابندیاں اٹھاسکتے ہیں۔

جوبائیڈن 2015 میں 6 عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا عزم ظاہر کرچکے ہیں۔جوہری معاہدے میں کیا طے ہوا تھا؟
جولائی 2015 میں یورپی یونین سمیت 6 عالمی طاقتوں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے ’جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکش‘ کے تحت ایران نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ جوہری ری ایکٹر میں بطور ایندھن استعمال ہونے اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے افزودہ شدہ یورینیم کے ذخائر کو 15 سال کے لیے محدود کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کی تعداد کو 10 سال کے عرصے میں بتدریج کم کرے گا۔

ایران نے اس بات پر بھی اتفاق کیا تھا کہ وہ بھاری پانی کی تنصیب کو بھی تبدیل کرے گا تاکہ بم میں استعمال ہونے والا مواد پلوٹونیم تیار نہ کیا جاسکے۔ ان تمام شرائط کو قبول کرنے کے بدلے اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔ ایران ہمیشہ سے اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پر امن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری معاہدے پر عمل پیرا ہے جس کی تصدیق عالمی جوہری توانائی ایجنسی بھی کرتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو تباہ کن اور پاگل پن قرار دینا شروع کردیا تھا جس کے بعد امریکا نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔