افغانستان سے فوجیوں کے جلد بازی میں انخلا کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے، نیٹو چیف کی تنبیہ

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے جلد بازی میں انخلا کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔نیٹو چیف کی جانب سے یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں افغانستان سے بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا حکم دے سکتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق جینز اسٹولٹنبرگ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں اب ایک مشکل فیصلے کا سامنا ہے، ہم افغانستان میں تقریباً 20 سال سے موجود ہیں اور کوئی نیٹو اتحادی ضرورت سے زیادہ وہاں رُکنا نہیں چاہتا، لیکن اسی وقت وہاں سے بہت جلدی یا غیر منظم طریقے سے واپسی کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔افغانستان میں نیٹو کے درجنوں رکن ممالک کے 12 ہزار سے کم فوجی موجود ہیں جو مقامی سیکیورٹی فورسز کو تربیت میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ان فوجیوں میں سے تقریباً نصف امریکی ہیں اور 30 ممالک کا یہ اتحاد ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور دیگر معاملات کے لیے امریکی فوج پر بہت انحصار کرتا ہے۔جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ یہ خطرہ اب بھی موجود ہے کہ افغان سرزمین پر بین الاقوامی دہشت گرد ہمارے ممالک پر حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی تنبیہ کی صورت میں تنقید غیر معمولی ہے، جینز اسٹولٹنبرگ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحاد سے متعلق فیصلوں کے حوالے سے محتاط رہے ہیں۔

رواں ماہ صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن سے شکست کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کو برطرف کردیا تھا اور ان کی جگہ کرسٹوفر مِلر اس عہدے پر فائز ہوئے تھے جنہوں نے چند روز قبل تنازعات والے ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ‘اب گھر آنے کا وقت آگیا ہے’۔منصوبے کے تحت 15 جنوری تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً نصف کم ہو کر ڈھائی ہزار رہ جائے گی۔

واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا رواں سال فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالبان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کا حصہ ہے، جس کے بدلے طالبان نے امریکی سلامتی مفادات کی ضمانت دی ہے۔تاہم معاہدے کے بعد سے طالبان نے افغان فورسز پر متعدد حملے کیے ہیں، جنہیں نیٹو فورسز کی تربیت دی ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ کابل حکومت، قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونے والے معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔دونوں فریقین کے درمیان پائیدار امن معاہدے کے لیے ستمبر سے دوحا میں مذاکرات جاری ہیں لیکن ملک میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے ملک میں مستقبل میں امن کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔