سعودی خواتین کی بڑی گنتی ڈپریشن کا شکار نکلی

ریاض: سعودی خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان نے گھروں میں محدود سعودی خواتین کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنانے کے لیے ان پر ملازمتوں اور کاروبار کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرائیونگ پر لگی پُرانی پابندی بھی ہٹا لی گئی ہے۔ ان اقدامات سے سعودی خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور وہ مختلف شعبوں میں شہرت کما رہی ہیں۔

تاہم اس کے باوجود سعودی خواتین کی ایک بڑی گنتی ڈپریشن کا شکار ہے۔ کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال و ریسرچ سینٹر کی عالمی شہرت یافتہ ریسرچر ڈاکٹر یاسمین التویجری نے انکشاف کیا ہے کہ 34 فیصد سعودی شہری زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پرنفسیاتی مسائل سے دو چار رہتے ہیں۔تاہم سعودی خواتین میں ڈپریشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ڈپریشن میں مبتلا سعودی خواتین کی سعودی مردوں کے مقابلے میں تعداد تین گنا زیادہ ہے۔

3.1 فیصد سعودی مرد ڈپریشن کے مریض پائے گئے جبکہ سعودی خواتین میں یہ شرح 8.9 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ جو ایک تشویش ناکبات ہے۔ ڈاکٹر یاسمین نے مزید کہا کہ اگرچہ دُنیا بھر میں ڈپریشن نے کروڑوں افراد کو اپنا نشانہ بنا رکھا ہے، مگر اس کے اسباب معلوم نہیں ہو سکے۔ ہر تیسرا سعودی زندگی میں کبھی نہ کبھی نفسیاتی مسائل کی لپیٹ میں ضرور آتا ہے۔ سعودی عرب میں بھی اس مرض کے شکار افراد کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم فی الحال ہمارے پاس یہی اعداد و شمار موجود ہیں۔ سعودی عرب کے اصلاح پسند ولی عہد اور سعودی عرب کے اصلاح پسند ولی عہد اور خواتین کے حقوق اور ان کی آزادیوں کے علم بردار محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی خواتین کو برسوں محرومیوں کا سامنا رہا ہے۔انہوں نے مملکت میں ہونے والی مختلف شعبوں میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ان میں خواتین کے کردار کا اعتراف کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل مملکت میں خواتین کو سفر کی آزادی نہیں تھی۔ وہ کھیلوں،ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی تھیں اور نہ ہی انہیں ڈرائیونگ کی اجازت تھی۔ اسی طرح کئی دوسرے شعبوں میں خواتین کو کام کی آزادی نہیں تھی اور بہت سے کاموں میں خواتین کے لیے محرم کی موجودگی لازمی قرار دی جاتی تھی۔ اس طرح خواتین نے دسیوں برس محرومیوں کا سامنا کیا مگر آج خواتین بہت سے شعبوں میں با اختیار ہیں۔