متحدہ عرب امارات میں ایکسپائرڈ ویزہ ہولڈرزکو دی گئی مہلت آج رات ختم ہو جائے گی

دُبئی: متحدہ عرب امارات نے خبردار کیا ہے کہ جن افراد کے ویزے یکم مارچ سے قبل ایکسپائر ہو گئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے اپنا ویزہ سٹیٹس تبدیل نہیں کروایا یا پھر امارات سے وطن واپسی نہیں کی، ان کے لیے آج 17 نومبر کو آخری روز کی مہلت ہے۔ کل سے ان پر جرمانے عائد ہونا شروع ہوں گے۔فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈنٹٹی اینڈ سٹیزن شپ (FAIC) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سعید رکان الرشیدی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اماراتی حکومت نے ان ایکسپائرڈ ویزہ ہولڈرز کوچند ماہ کی رعایتی مہلت دی تھی جن کے ٹورسٹ یا رہائشی ویزے یکم مارچ سے قبل ایکسپائر ہو گئے تھے۔

قبل ازیں یہ رعایتی مُدت 18اگست 2020ء مقرر کی گئی تھی تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس مُدت میں تین ماہ کی توسیع کر کے ڈیڈ لائن 17 نومبر 2020ء مقرر کی گئی تھی۔آج غیر قانونی تارکین کے پاس آخری دن ہے، یا تو وہ اپنے ویزوں کی تجدید کروا لیں یا پھر مملکت سے چلے جائیں، ورنہ کل سے ان پر مملکت میں غیر قانونی قیام پر روزانہ کی بنیاد پر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیڈ لائن سے قبل جو ایکسپائرڈ ویزہ ہولڈرزامارات سے واپس چلے جائیں گے، ان پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔ تارکین کو اس سنہری موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ورنہ ان پر جرمانے عائد ہوں گے۔ میجر جنرل الرشیدی نے آگاہ کیا کہ یہ ایمنسٹی سکیم ان تمام افراد کے لیے ہے جو وزٹ، ٹورسٹ یا رہائشی ویزہ پر یو اے ای آئے، مگر ان کے ویزے یکم مارچ 2020ء سے پہلے ایکسپائر ہو گئے تھے۔جن افراد کے ٹورسٹ یا وزٹ وزے یکم مارچ کے بعد ایکسپائر ہوئے یاان کی ملازمتیں یکم مارچ کے بعد ختم ہونے سے ان کے ویزے منسوخ ہوئے، انہیں یہ رعایت حاصل نہیں ہے، ایسے ایکسپائرڈ ویزہ ہولڈرز پر پہلے سہی جرمانوں کا نفاذ ہو رہا ہے۔