دُبئی کے فارم ہاؤس میں پاکستانی ملازم کی بے ایمانی

دُبئی: متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں تاہم مٹھی بھر پاکستانیوں کی منفی اور جرائم پیشہ سرگرمیوں کی وجہ سے باقی کے لاکھوں پاکستانیوں کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آئے روز پاکستانیوں کی چوری اور ڈکیتی کی واردات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایسا ہی ایک اور تازہ ترین واقعہ دُبئی میں بھی پیش آیا ہے، جس میں پاکستانی ملازم نے دغابازی کرتے ہوئے اپنے مالک کا قیمتی اُونٹ فروخت کر ڈالا۔تاہم مالک کو شک پڑا تو تفتیش کے نتیجے میں اسے اس واردات کا علم ہو گیا۔ دُبئی پولیس کے مطابق 22 سالہ پاکستانی نوجوان ایک اماراتی کے الحباب میں واقع فارم پر چرواہے کی ملازمت کرتا تھا، اس کے ذمے مالک کے اونٹوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔تاہم اس نے اپنے مالک کے درجنوں اونٹوں میں سے ایک اونٹ مارکیٹ میں جا کر فروخت کر ڈالا۔ اس واقعے کے چند روز بعد مالک کو شک ہوا تو اس نے ملازم کو پوچھا مگر اس نے کہا کہ اونٹ پورے ہیں۔

مالک اپنی تسلی کے لیے المرموم میں واقع اونٹوں کی مارکیٹ میں گیا اور وہاں جا کر بیوپاریوں سے تفتیش کی تو اسے تصدیق ہو گئی کہ واقعی اس کا ایک اونٹ فروخت کیا گیا ہے۔ بیوپاریوں نے بتایا کہ اس کا پاکستانی ملازم ان کے پاس ایک اونٹ فروخت کرنے لایا تھا، جس کا سودا 10 ہزار میں طے ہوا ۔ وہ رقم لے کر چلا گیا تھا، تاہم یہ اونٹ مارکیٹ میں ہی تھا، جسے مالک نے پہچان لیا اور فوری طور پر پولیس کو رپورٹ درج کرا دی۔ پولیس نے پاکستانی ملازم کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ مالک کا فروخت کیا گیا اونٹ بھی مارکیٹ سے بازیاب کروا دیا۔ملزم کے خلاف اونٹ چوری کے مقدمی کی سماعت جاری ہے، جس کا فیصلہ 21 دسمبر 2020ء کو سُنایا جائے گا۔