کورونا: لاک ڈاؤن میں اوسط امریکی شہری نے 500 گھنٹے صوفے پر بیٹھ کر گزارے

عالمی وبا کورونا وائرس نے دنیا بھر میں معمولات زندگی کو تبدیل کردیا ہے اور لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں لوگوں کےگھر پر وقت گزارنے کے دورانیے میں غیر معمولی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔

لاک ڈاؤن کے دوران کہیں کسی نے وقت گزاری کے لیے ہوم جم کا آغاز کیا تو کہیں کوئی باغبانی میں دل بہلاتا نظر آیا تاہم ایسے میں امریکی شہریوں نے کیا سرگرمیاں کیں اس حوالے سے حال میں امریکا میں ایک سروے کیا گیا۔ فرنیچر ریٹیلر آرٹیکل اور ون پول ان کنجکشن کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق فی اوسط امریکی شہری نےگزشتہ 32 ہفتوں کے دوران نے لگ بھگ 500 گھنٹے صوفے پر بیٹھ کر گزارے اور یہ شرح عام دنوں کے مقابلے یومیہ 2 گھنٹے زیادہ ہے۔

وبائی مرض سے قبل کیے گئے سروے میں بتایا گیا تھا سروے میں شامل آدھے سے زیادہ امریکی ہفتے میں 7 یا اس سے زائد گھنٹے صوفے پر گزارتے ہیں جو مجموعی طور پر 224گھنٹے بنتے ہیں۔ 2000 امریکیوں پر مشتمل سروے نتائج کے مطابق گھر سے کام کرنے (work from home ) کے دوران 61 فیصد امریکی شہریوں نے متبادل ورک اسٹیشن کے طور پر صوفے کا استعمال کیا۔ سروے میں شامل کئی افراد اس دوران جسمانی و جذباتی دونوں طرح سے کاؤچ سے منسلک رہے جب کہ 70 فیصد شہریوں نے ورک فروم ہوم کے دوران صوفے اپنا ’بیسٹ فرینڈ‘ قرار دیا۔

36 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انہیں اب صوفے سے الگ ہونے میں تکلیف ہوگی جب کہ57 فیصد امریکی شہریوں نے کہا کہ ان کی صوفے کے ساتھ اہم یادیں جڑگئی ہیں۔ سروے میں دوران لاک ڈاؤن وقت گزارے جانے سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں 35 فیصد امریکی شہریوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے نیٹ فلیکس سیریز دیکھ کر وقت گزارا جب کہ ایک تہائی 32 فیصد شہریوں نے کتاب کے مطالعہ کا دعویٰ کیا۔ سروے میں شامل 32 فیصد افراد نے بیکنگ، 39 فیصد نے اضافی کوکنگ، 42 فیصد نے باہر سے آرڈرز جب کہ 35 فیصد افراد نے بورڈ گیم کھیلنے کا کہا۔

28 فیصد امریکی شہریوں نے سماجی دوری کے ساتھ دوستوں سے میل جول کیا اور 32 فیصد امریکیوں نے سماجی میل جول کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کا انتخاب کیا۔