مصر میں 100 سے زائد قدیم تابوت دریافت

مصر نے رواں سال کی سب سے بڑی دریافت کا اعلان کیا ہے کہ انہیں ڈھائی ہزار سال قدیم 100 سے زائد تابوت ملے ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق لکڑی کے ان سر بہ مہر صندقوں کی رونمائی ایک بڑی تقریب میں کی گئی۔ان تابوتوں کا تعلق قدیم مصر کے اواخرکے دور اور سلطنت بطلیموس سے ہے۔یہ تابوت قاہرہ کے جنوب میں ثقارہ میں کھدائی کے دوران تقریبا 12 میٹر (40 فٹ) کی گہرائی میں 3 حصوں میں دفن تھے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے جب ایک تابوت کھولا تو اس میں چمڑے کی تہوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی موجود تھی جو مختلف دیگر نایاب چیزوں سے آراستہ تھا۔ثقارہ میں درجن سے زائد اہرام، قدیم خانقاہیں اور جانوروں کی تدفین کی جگہیں موجود ہیں۔خیال رہے کہ ثقارہ قدیم مصر کے دارالحکومت میمفس کا قبرستان ہے جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہے۔یہ دریافت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک ماہ قبل ہی 59 محفوظ شدہ اور سر بہ مہر تابوت دریافت کیے تھے جو ڈھائی ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم تھے۔

مصر کے وزیر برائے نوادرات اور سیاحت خالد العننی نے ان تابوتوں کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثقارہ نے ابھی اپنے تمام اثاثے ظاہر نہیں کیے، یہ ایک خزانہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ کھدائی کا کام جاری ہے جب کبھی ہم ایسی کوئی دریافت کرتے ہیں تو ایک اور نئی دریافت کے راستے میں داخل ہوجاتے ہیں۔مصر کے وزیر نے کہا کہ قدیم دیوتاؤں اور مختلف اقسام کے ماسک کے ساتھ 40 سے زیادہ مجسمے بھی دریافت ہوئے۔ان تابوتوں کو مصر کے متعدد عجائب گھروں میں رکھا جائے گا جس میں زیر تعمیر گرینڈ مصری میوزیم بھی شامل ہے۔

مصر کے وزیر نے ثقارہ میں ان لگاتار دریافتوں کو حالیہ چند برسوں میں وسیع پیمانے پر کھدائی سے منسوب کیا ہے۔خالد العننی نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں محکمہ نوادرات کی جانب سے ایک اور دریافت کا اعلان متوقع ہے۔محکمہ نوادرات کی مجلس عاملہ کے سیکریٹری جنرل مصطفی وزیری نے بتایا کہ آثار قدیمہ کے ماہرین کو ممیز کے لیے لکڑی کے تابوت تیار کرنے والی قدیم ورکشاپ دریافت ہونے کی بھی اُمید ہے۔مصر کو ان دریافتوں سے سیاحت میں مزید اضافے کی اُمید ہے جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث متعدد مسائل کا شکار ہے۔