مذہبی عالم کو ’ریپ‘ الزامات پر سوئٹزرلینڈ میں مقدمے کا سامنا

یورپ و مشرق وسطیٰ میں انتہائی اہم مذہبی شخصیت کا اعزاز رکھنے والے مصری نژاد سوئس مذہبی عالم 58 سالہ طارق رمضان کے خلاف مزید ایک خاتون کے ’ریپ‘ الزامات کے مقدمے کا آغاز ہوگیا۔طارق رمضان پر ابتدائی طور پر 2017 میں فرانس کی 2 نو مسلم خواتین نے ’ریپ‘ تشدد اور ’جنسی استحصال‘ کے الزامات عائد کیے تھے۔
اس وقت طارق رمضان برطانیہ کی معروف آکسفورڈ یونیورسٹی میں مذہبی تعلیم کے پروفیسر تھے۔
خواتین کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد انہیں نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا جب کہ فرانسیسی پولیس نے انہیں تحویل میں لے کر تفتیش بھی کی تھی۔بعد ازاں ان پر کم از کم 3 مزید خواتین نے ’ریپ‘ اور ’جنسی استحصال‘ کے الزامات لگائے تھے اور ان پر پانچوں خواتین کے الزامات پر فرانس میں کافی عرصے تک تفتیش بھی ہوتی رہی۔
خواتین کی جانب سے ’ریپ‘ جیسے الزامات لگائے جانے کے بعد طارق رمضان پر شدید تنقید بھی کی جاتی رہی اور انہیں مختصر مدت کے لیے پولیس نے تحویل میں بھی رکھا گیا تاہم ان پر باضابطہ مقدمہ چلاکر انہیں سزا نہیں دی جاسکی۔

حال ہی میں فرانسیسی عدالت نے طارق رمضان کو الزام لگانے والی پانچوں خواتین کو بدنام کرنے کے الزام پر تقریبا 10 ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ طارق رمضان کو فرانسیسی عدالت نے 8 نومبر کو ہونے والی سماعت میں ’ریپ‘ الزامات لگانے والی خواتین کو بدنام کرنے کے جرم میں جرمانے کی سزا سنائی۔
طارق رمضان پر الزام تھا کہ انہوں نے ’ریپ‘ الزامات لگانے والی خواتین کے ناموں کو اپنی ایک کتاب اور ٹی وی پروگرام سمیت پریس ریلیز میں لکھا، جس کی وجہ سے ان کی شناخت ہوگئی اور انہیں بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔