ہیلو یو، اسرائیل اور امارات کا مشترکہ گانا یو ٹیوب پر ہٹ

دبئی سے تل ابیب تک یہ منظر کٹ جاتا ہے۔ دھن عربی سے انگریزی اور عبرانی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس گانے میں فنکاروں کا ہلکا ہلکا الیکٹرو پاپ ڈوئٹ ہے جو اب تک الگ رہتے ہیں۔اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات معمول پر آنے کے بعد دونوں نے باہمی تعاون سے پہلا میوزک پیش کیا ہے۔ عربی میں ’اھلا بِک‘ یا ’ہیلو یو‘۔اسرائیلی گلوکار ایلکانا مرزیانو نے کہا ’یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘ جس کے اماراتی آرٹسٹ ولید الجسم کے ساتھ ڈیوٹ کو یو ٹیوب پر 30 ستمبر کو پوسٹ ہونے کے بعد 1.1 ملین سے زیادہ لوگوں نے دیکھا ہے۔28 سالہ مارزیانو اسرائیل کی ’وریژن آف دی وائس‘ گلوکاری کے ایک مقابلے ٹی وی شو کے سابقہ فاتح اورعربی سپیکر ہیں۔

انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا میں نے اور الجسم نے زوم ویڈیو کانفرنسنگ سروس کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اس گانے کے کچھ حصے دبئی اور اسرائیل میں دیگر پروگراموں کے ساتھ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔مرزیانو نے پارٹنرشپ کے بارے میں کہا ’ انڈر سٹینڈنگ فوری تھی۔‘ایک آن لائن کمنٹیٹر جس نے شیکڈ شیرون کے نام سے پوسٹ کیا نے کہا ’اس گانے سے آپ کو نیا مشرقِ وسطیٰ محسوس ہوتا ہے۔‘اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے اگست میں اعلان کیا تھا کہ وہ امریکہ کی ثالثی کے ذریعےسالوں کے محتاط معاشی اور سلامتی تعاون کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔

اسرائیل کی پارلیمان نیسٹ نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کی منظوری دی ہے۔
بحرین گذشتہ ماہ وہائٹ ہاؤس میں دستخط کیے جانے والے ابراہیم معاہدے کے نام سے اس معاہدے میں شامل ہوا جس سے وہ اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے والی تیسری اور چوتھی عرب ریاستیں بن گئی ہیں۔اسرائیل نے 1979 میں پڑوسی ملک مصر اور 1994 میں اردن کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔ یوٹیوب کے کچھ تبصرہ نگاروں نے ’اھلا بِک‘منایا ہے جبکہ دوسروں نے فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے اس گانے اور اسرائیلی اماراتی تعلقات کو معمول پر لانے کی مذمت کی ہے۔

یہ گانا ڈورون میڈالی نے لکھا تھا جس نے ’ٹوائے‘ بھی لکھا تھا، اس گانے نے اسرائیل میں 2018 یور وویژن مقابلہ جیتا تھا۔کورس میں ’آئی ہیر یو فرینڈ فار اوے، فار اوے‘ کو تینوں زبانوں میں دہرایا جاتا ہے جبکہ میوزک ویڈیو کے ایکشن پائیویڈز کے ساتھ اسرائیل میں دبئی کے الجاسم تک ناچ رہے ہیں۔مرزیانو نے کہا کہ اسرائیلی موسیقی میں امن ایک عام موضوع تھا جو 1948 میں قائم ہونے کے بعد سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ باقاعدگی سے تنازع میں رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان کی اسرائیلیوں اور اماراتیوں کو اپنے یوٹیوب پیج پر گانے پر گفتگو کرنے کے لیے آن لائن بات چیت کرتے ہوئے دیکھنا ’ذاتی فتح‘ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب کورونا وائرس کا اختتام ہو گا تو وہ الجسم کے ساتھ ایک براہ راست کنسرٹ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔مرزیانو نے اے ایف پی کو بتایا ’میں اس گیت کو (الجاسم کے ساتھ) اور دوسرے لوگوں کے ساتھ گانے کے خیال سے بہت متاثر ہوا ہوں۔‘