مسک فورم کا اجلاس، درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کا عزم

مسک گلوبل فورم کا اجلاس ریاض میں اختتام پذیر ہو گیا جس میں نوجوانوں کو با اختیار بنانے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ مسک فاؤنڈیشن نے ’دگنے اثر‘ سلوگن کے ساتھ آن لائن اجلاس کا اہتمام کیا تھا- اس میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے جبکہ 70 قائدین نے خطاب کیا جہنوں نے دو روز کے دوران بارہ مباحثوں اور ورکشاپس کے شرکا کے سامنے اپنے تجربات کا نچوڑ پیش کیا۔

مسک گلوبل فورم میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے پر زور دیا گیا۔ نوجوانوں کو درپیش چیلنجوں کے حل پیش کرنے میں حصہ لینے کی تاکید کی گئی۔ اعتراف کیا گیا کہ نئی نسل حل پیش کرنے والی نسل ہے۔ نئی نسل کی توانائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جانا ضروری ہے۔ فورم کے شرکا کا کہنا تھا کہ نئے کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں آنے والی تبدیلیوں اور یومیہ زندگی پر اس کے اثرات سے نمٹنے کا طریقہ کار متعین کرنا ہوگا۔فورم کے شرکا نے نوجوانوں کو پائدار ترقی میں بھرپور شکل میں حصہ لینے اور اس حوالے سے خواتین کے کردار کی بابت اہم اہداف اجاگر کیے گئے۔

مسک گلوبل فورم میں نامور شخصیات نے شرکت کی۔ بوسٹن کنسلٹنٹ گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، ہونڈائی کے چیئرمین ، اویو کے ایگزیکٹیو چیئرمین اور دنیا کے دوسرے کم عمر ارب پتی یو بی ایس کے ایگزیکٹیو چیئرمین ، سعودی وزیر تعلیم، جرمن کمپنی سیمنز کے ایگزیکٹیو چیئرمین جیسی شخصیات شامل ہوئیں۔ سعودی وزیر تعلیم ڈاکٹر حمد آل الشیخ نے بتایا کہ سعودی عرب کو نئے کورونا کی وبا کے ماحول میں آن لائن تعلیم کے حوالے سے مثالی ریاست کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ حکومت، وزارت تعلیم کی مسلسل مدد کرتی رہی۔ مسک فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹیو چیئرمین ڈاکٹر بدر البدر نے کہا کہ یہ پانچواں گلوبل فورم تھا۔ وبا کے زمانے میں آن لائن ہوا- مسک فورم پوری دنیا میں نوجوانوں کو سب سے بڑا قدرتی سرچشمہ سمجھتی ہے۔