کورونا کے باعث مشرق وسطیٰ کی معیشتوں کو کساد بازاری کا سامنا

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں سال کے دوران مشرق وسطیٰ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی معیشت 6.6 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کورونا کی وبا کے باعث اس سال دنیا بھر کی معیشتیں 4.4 فیصد سکڑیں گی۔ آئی ایم ایف کے مطابق 1930 کی دہائی کے معاشی بحران کے بعد اس سال دنیا کو بدترین مندی کا سامنا ہوگا۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سے لبنان کو سب سے زیادہ معاشی بحران کا سامنا رہے گا جس کی معیشت 25 فیصد سکڑے گی۔

مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کو سب سے زیادہ کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سب سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ گزشتہ سال ایران کی معیشت 6.5 فیصد سکڑی تھی جبکہ اس سال 5 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔مشرق وسطیٰ کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے بارے میں عالمی مالیاتی فنڈ نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال 2020 میں ان کی معیشت 6.6 فیصد سکڑے گی۔جبکہ آئندہ سال کے دوران خلیجی عرب ریاستوں کی معاشی ترقی کی شرح 2.3 فیصد متوقع ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر معاشی ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال میں تیل کی اوسطاً قیمت 41.69 ڈالر فی بیلر رہی ہے جبکہ آئندہ سال 46.70 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے کا امکان ہے۔ تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی معیشت 5.4 فیصد سکڑے گی۔تیل برآمد کرنے والے ملک متحد عرب امارات کی معیشت بھی چھ فیصد سے زیادہ سکڑنے کا امکان ہے۔جبکہ اومان کی معیشت 10 فیصد سکڑنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق کورونا کی عالمی وبا نے 8 کروڑ سے11کروڑ کے درمیان افراد کو انتہائی غربت کی طرف دھکیلا ہے۔