ملک میں موجود امریکیوں کو گرفتار کر سکتے ہیں: چین

چین کی حکومت نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے چین کی فوج کے ساتھ منسلک سکالروں پر مقدمے درج کرنے پر اپنے ملک میں موجود امریکیوں کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’اس معاملے سے واقف حکام نے بتایا ہے کہ چین نے مختلف ذرائع سے امریکی قیادت کو یہ پیغام بھجوایا ہے۔‘

چین کا پیغام تھا کہ امریکی عدالتوں میں چینی سکالرز پر مقدمے درج کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ورنہ چین میں رہنے والے امریکیوں کو بھی چینی قانون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے 14 ستمبر کو چین کے سفر کے حوالے سے ہدایات جاری کی تھیں جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ چینی حکومت سودے بازی کے لیے امریکی اور دیگر ملکوں کے شہریوں کو گرفتار کرتی ہے اور اور ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگاتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس حوالے سے سنیچر کو واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا لیکن وہاں سے حکام نے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کا الزام ہے کہ چین امریکہ پر سبقت لے جانے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی اور فوجی معلومات ’چوری‘ کرنے کے لیے جاسوسی کرتا ہے تاہم چین ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

رواں سال چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی خراب سطح پر چلے گئے ہیں۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کا الزام براہ راست چین پر عائد کیا اور ایک موقع پر انہوں نے کورونا کو ’چینی وائرس‘ بھی کہا تھا جس کی بیجنگ نے مذمت کی تھی۔