سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کے بعد دُبئی ایئرپورٹ نے سرکلر جاری کر دیا

دُبئی(روزنیوز) دُبئی ایئرپورٹ حکام نے پاکستان سے وزٹ ویزے پر آئے 545 افراد کو ٹریول ایڈوائزی سے متعلق شرائط پوری نہ کرنے پر ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔گزشتہ روز سے لے کر اب تک 250 سے زائد افراد ڈی پورٹ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو تین روز میں بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہزاروں ویزہ ہولڈرز کوبھی واپس بھجوا دیا گیا ہے۔

دُبئی ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے ایک سرکلر کے ذریعے ایئر لائنز کو بتا دیا ہے کہ کسی مسافر کو اس وقت تک پرواز میں سوار نہ کیا جائے ، جب تک اس کے پاس ریٹرن ٹکٹ موجود نہ ہو۔ جن پروازوں سے ریٹرن ٹکٹ کنفرم کروائے بغیر مسافر امارات پہنچیں گے، انہیں ایئرپورٹ سے ہی ڈ ی پورٹ کر دیا جائے گا ، اور واپسی کی ٹکٹ کے تمام تر اخراجات ایسے مسافروں کو لانے والی ایئر لائنز کو برداشت کرنا ہوں گے۔اس سرکلر کے مطابق یہ ہدایات منگل اور بُدھ کے روز ایئرپورٹ پر پھنس جانے والے سینکڑوں پاکستانیوں اور دیگر ممالک کے ویزہ ہولڈرز کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد کی گئی ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جو افراد وزٹ اور ٹورسٹ ویزہ پر دُبئی آئیں گے ان کے پاس کنفرم ریٹرن ٹکٹ ہونا لازمی ہے۔ جن مسافروں کے پاس ریٹرن ٹکٹ موجود نہیں ہو گی، انہیں دُبئی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس صورت حال کی تمام تر ذمہ دار انہیں لانے والی ایئر لائنز ہوں گی۔ ان ایئرلائنز کو ہی مسافروں کو فوری وطن واپس بھجوانے کے لیے ٹکٹ اور پرواز کا بندوبست کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ ایک قومی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیاجا رہا ہے کہ ان سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کی ذمہ داری دُبئی میں واقع پاکستانی قونصل خانے پر عائد ہوتی ہے، جس نے اماراتی حکومت کی جانب سے نئی ٹریول ایڈوائزی جاری ہونے کے بعد پی آئی اے اور پاکستانی حکومت کو نئی سفری شرائط کے بارے میں بروقت اطلاع نہیں دی جس کا خمیازہ سینکڑوں پاکستانیوں کو مالی نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑر ہا ہے۔
ان سینکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کے بعد قونصل خانے کو بھی اب یاد آ گیا ہے کہ دُبئی آنے والوں کو نئی شرائط سے آگاہ کر دیا جائے۔ قونصل خانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یو اے ای کی نئی سفری ہدایات کے مطابق ویزے ہولڈرز کو امارات آتے وقت اپنے ساتھ دو ہزار درہم لانے ہوں گے ، اور سفر سے قبل دُبئی کے کسی ہوٹل میں پیشگی بکنگ بھی کروانی ہو گی، جس کا ریکارڈ مسافر کو دُبئی پہنچنے پر امیگریشن حکام کو دکھانا ہو گا۔